اسحاق ڈار نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل یوتھ کے حوالے سے کام پر پاکستان سے خوش ہیں، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ کچھ ہفتے پہلے منیلا میں بھی ملاقات ہوئی تھی، ان کے ساتھ انسداد دہشتگردی، تجارت اور دیگر امور پر بات ہوئی، پاکستان کی مصنوعات کی برطانیہ میں برآمدات بڑھانے پر بات ہوئی، اتفاق ہوا کہ پاک برطانیہ تجارت کو مزید بڑھایا جائے گا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کے ساتھ بھی میری ملاقات ہوئی، ایران امریکا کے درمیان امن کیلیے برطانوی حکام نے پاکستان کے کردار کو سراہا، برطانوی وزرا نے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تعریف کی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کر دیا ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ کا خدشہ مکمل ختم ہو چکا ہے، وزیر اعظم کو دنیا بھر سے اتنے دعوت نامے آتے ہیں کہ انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے، ان کی قیادت میں بھارت کے خلاف کامیابی سنہرے حروف میں لکھی گئی ہے۔
نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر بھارت کے اقدامات کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا، بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ افغانستان اور ایران پر بھی برطانوی وزیر خارجہ سے بات ہوئی، ہم پرامن اور مستحکم افغانستان چاہتے ہیں، چاہتے ہیں کہ افغانستان میں ترقی ہو، برطانوی وزرا کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا، ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے براستہ افغانستان ازبکستان پاکستان ریلوے لائن معاہدہ کیا، بارڈر بند ہونے سے پاکستانی کاشتکاروں کو بھی نقصان ہوا، دو بار ہم نے ایک ہزار کنٹینر انسانی بنیادوں پر جانے کی اجازت دی، ہم نے امدادی کنٹینر بھیجنے کی کوشش کی جسے افغان حکومت نے روک دیا، دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں۔



