معصوم بچپن کا قاتل کون؟

0
9

کبھی کبھی انسان کچھ خبریں پڑھ کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہمارے معاشرے کو کیا ہو گیا ہے، کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں؟ ہم نے بلند و بالا عمارتیں تو بنا لیں، سڑکیں کشادہ کر لیں، جدید ٹیکنالوجی ہاتھ میں تھام لی، دنیا بھر سے رابطے قائم کر لیے، مگر کیا ہم اپنے اندر کے انسان کو بھی بچا سکے؟ یہ سوال آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

ہم اس نبی ﷺ کے امتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمتُ للعالمین بنا کر بھیجا۔ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جو انسان کی عزت، جان اور آبرو کو حرمت عطا کرتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہماری معاشرتی زندگی میں ایسی درندگی کیوں بڑھتی جا رہی ہے جس میں معصوم بچّے تک محفوظ نہیں؟

یہ صرف جنسی جرائم کا مسئلہ نہیں، یہ بحیثیت قوم ہمارے زوال کا ایک سوال ہے۔ بچّے اور نوعمر کسی بھی معاشرے کا کمزور مگر قیمتی طبقہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے تحفظ کے لیے بڑوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کے لیے گھر، اسکول، محلہ اور رشتے دار تحفظ کی علامت ہوتے ہیں۔ مگر جب یہی اعتماد ٹوٹتا ہے تو صرف ایک بچہ زخمی نہیں ہوتا، اس کے ساتھ ایک خاندان، ایک گھر اور پوری معاشرتی نفسیات متاثر ہوتی ہے۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کے اعداد و شمار مسلسل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ مختلف اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جب کہ خدشہ یہ ہے کہ رپورٹ کردہ واقعات ان کی اصل تعداد سے بہت کم ہو سکتے ہیں، کیونکہ بدنامی کا خوف، سماجی دباؤ، دھمکیاں اور قانونی پیچیدگیاں بہت سے خاندانوں کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ یعنی جو ہمیں نظر آ رہا ہے، مسئلہ شاید اس سے کہیں زیادہ بڑا اور سنگین ہے۔ حالیہ دل دوز واقعہ نوشکی کا ہے جہاں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی، اس کا قتل اور لاش چھپانے کا واقعہ سامنے آیا۔

آٹھ سال کی بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل
آٹھ سال…یہ عمر ہوتی ہے گڑیا سے کھیلنے کی، اسکول جانے کی، ماں سے لپٹ کر کہانیاں سننے کی، باپ کی انگلی پکڑ کر اس کے ساتھ بازار جانے کی ضد کرنے کی، مستقبل کے سہانے سپنے دیکھنے کی۔ مگر ایک معصوم بچی کا بچپن اس معاشرے نے چھین لیا جس میں مکمل تحفظ اس کا حق تھا۔

ایسے واقعات کے بعد الفاظ کہاں‌ ساتھ دیتے ہیں۔ غصہ آتا ہے، دکھ ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور یہ سوال دل کو چیرتا چلا جاتا ہے، آخر ہم کب تک صرف افسوس کرتے رہیں گے؟

ہر واقعے کے بعد چند دن کے لیے سوشل میڈیا پر غم و غصہ نظر آتا ہے۔ سیاسی راہ نما بیانات دیتے ہیں۔ پولیس کارروائی کرتی ہے اور متعلقہ ادارے اس کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کرتے ہیں۔ میڈیا خبر نشر کرتا ہے۔ عوام مجرم کو سرِ عام سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پھر چند دن گزرتے ہیں اور ہم کسی نئی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن متاثرہ خاندان….وہ کہاں جاتا ہے؟ اُس بچے کا خوف کہاں جاتا ہے، اس کی ٹوٹی ہوئی نفسیات کون جوڑتا ہے، اس کے والدین کے دل میں پیدا ہونے والا وہ خوف کون دور کرتا ہے کہ ان کا بچہ اب بھی محفوظ نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگلا بچہ کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ پالیسی، قانون اور نظام کے ذریعے دینا ہوگا۔

قانون موجود ہے، مگر کیا نظام مؤثر ہے؟
پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور جنسی جرائم کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ سزائیں بھی مقرر ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ صرف قانون کی کتاب میں موجود سزا نہیں، بلکہ قانون کے مؤثر اور بروقت نفاذ کا ہے۔ اگر ایک مجرم کو یقین ہو کہ مقدمہ برسوں چل سکتا ہے، شواہد کمزور پڑ سکتے ہیں، متاثرہ خاندان دباؤ میں آسکتا ہے یا وہ قانونی سقم کا فائدہ اٹھا سکتا ہے تو قانون کی سختی کا مقصد ہی کمزور ہو جاتا ہے۔

ہمیں ایسے مقدمات میں جدید فرانزک سہولیات، تربیت یافتہ تفتیشی افسران، مضبوط پراسیکیوشن، شواہد کے تحفظ کا مؤثر نظام اور بچوں کے لیے حساس عدالتی طریقۂ کار کو یقینی بنانا ہوگا۔ مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ متاثرہ بچوں کو بار بار ایک ہی تکلیف دہ واقعہ بیان کرنے سے بچانا ہوگا۔ انہیں طبی، نفسیاتی اور قانونی مدد فراہم کرنا ہوگی۔ اور سب سے اہم بات—مجرم کو سزا کا خوف نہیں، سزا کا یقین ہونا چاہیے۔

پارلیمنٹ سے ایک سوال
ہمارے معزز عوامی نمائندے اس مسئلے کو ریاست کی ترجیح کیوں نہیں بناتے؟ جب کوئی سیاسی، معاشی یا ذاتی نوعیت کا معاملہ ہو تو ایوانوں میں طویل بحث ہوتی ہے، قراردادیں آتی ہیں، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں۔ تو پھر بچوں کے تحفظ کے لیے مستقل اور جامع قانون سازی، موجودہ قوانین کے جائزے، عدالتی اصلاحات، فرانزک نظام کی بہتری اور پولیس کی خصوصی تربیت پر اتنی سنجیدہ اور مسلسل بحث کیوں نہیں ہوتی؟ یہ سوال کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے سے نہیں۔ یہ سوال ہم سب سے ہے۔

صرف سخت سزا نہیں، جرم کی روک تھام بھی ضروری ہے
ہمیں ایک بنیادی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف سزا بڑھانے سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔ کسی کو بھی ایسی کوشش سے باز رکھنا اور جرم سے روکنا بھی ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو ان کی ذہنی سطح اور عمر کے مطابق اپنے جسمانی تحفظ، ذاتی حدود اور نامناسب رویوں کے بارے میں آگاہی دینا ہوگی۔ گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ والی تھیوری کی جگہ یہ سمجھانا ہوگا کہ کسی کا جسم کو ٹچ کرنا ہی غلط ہے، اور والدین کو یہ سکھانا ہوگا

بچے کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ اگر کوئی شخص اسے ڈرائے، دھمکائے یا اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرے تو وہ خوف زدہ ہوئے بغیر اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد شخص کو اس بارے میں بتائے اور اس سے مدد طلب کرے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جرم کرنے والا شخص بچے کے جاننے والوں یا اس کے آس پاس موجود لوگوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کو صرف “اجنبیوں سے بچنے” کا سبق دینا کافی نہیں۔انہیں اپنی حفاظت، اپنی حدود اور اپنی آواز کی اہمیت سمجھانا ہوگی۔

میڈیا کا کردار بھی اہم ہے
کسی معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ ایک سنسنی خیز مواد نہیں ہوتا یا اس کا مطلب ریٹنگ ہرگز نہیں‌ ہوسکتا۔ متاثرہ بچے کی تصویر یا ایسی تفصیل نشر نہ کرنا جس سے اس کی شناخت ظاہر ہو، واقعے کی غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرنا اور خبر کو ذمہ داری سے پیش کرنا میڈیا کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

معاشرے کی خاموشی بھی ایک سوال ہے!
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہوگیا ہے۔ معاشرہ کوئی الگ مخلوق نہیں، معاشرہ تو ہم ہیں۔ ہماری خاموشی، ہماری بے حسی، اپنے بچوں کے رویے میں‌ اچانک غیرمعمولی تبدیلی یا ان کی کسی بات کو نظرانداز کرنا، جرم دیکھ کر آنکھیں بند کر لینا، بااثر ملزم کے سامنے خاموش ہو جانا اور متاثرہ خاندان کو بدنامی اور رسوائی کا احساس دلا کر پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کرنا—یہ سب معاشرہ ہی کرتا ہے۔

اس لیے اگر ہمیں تبدیلی چاہیے تو ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ بچے کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ اکیلا نہیں۔ اس کی بات سنی جائے گی۔ اس پر یقین کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی اس کی حدود پامال کرے گا تو خاندان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

نوشکی کی معصوم بچی ہم سے سوال کر رہی ہے
آج نوشکی کی وہ معصوم بچی ہمارے سامنے نہیں، مگر اس کی خاموشی ہم سے سوال کر رہی ہے۔ وہ پوچھ رہی ہے: میں تو صرف آٹھ سال کی تھی، میرا قصور کیا تھا، میرے خواب کس نے چھینے، میری حفاظت کی ذمہ داری کس کی تھی؟ اور اب مجھے انصاف چاہیے تو میرے ساتھ کون کھڑا ہے؟

شاید ان سوالوں کا جواب دینا ہمارے لیے اتنا آسان نہیں۔ لیکن ہمیں خود سے یہ عہد ضرور کرنا چاہیے کہ ہم آئندہ کسی بچے کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ عہد صرف الفاظ میں‌ نہیں، قانون کی شکل میں نظر آنا چاہیے۔ پالیسی میں نظر آنا چاہیے، پولیس کی کارکردگی میں، عدالت کے فیصلوں میں، اسکولوں میں‌ نظر آنا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمارے رویوں میں‌ نمایاں‌ ہونا چاہیے۔ اگر ہم معصوم بچپن کے تحفظ کے لیے آج بھی متحد نہیں ہوتے تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں، ایک ایسا پاکستان جس میں بچّے خوف کے ساتھ پروان چڑھیں؟ یا ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ خوف اور ڈر سے آزاد ہوکر ہنس سکے، کھیل سکے، خواب دیکھ سکے اور اپنے مستقبل کے لیے پُرامید ہو؟

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے
صرف مذمت نہیں، ہمیں‌ بڑا قدم اٹھانا ہوگا۔ اب وقت صرف قانون بنانے کا نہیں، قانون کے نفاذ کا ہے۔ اور اب بچّوں کے لیے صرف آواز اٹھانے کا وقت نہیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں