اسلام آباد اسمبلی کیلیے مجوزہ ڈرافٹ وزیر اعظم کو پیش، وزیر اعلیٰ یا میئر کے عہدے کی تجویز

0
8

اسلام آباد (6 ستمبر 2026): اسلام آباد اسمبلی تشکیل دینے کیلیے مجوزہ مسودہ وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کر دیا گیا، جو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں اعلیٰ اسطح کمیٹی نے تیار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں آئینی ترمیم کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اسلام آباد اسمبلی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے، قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی کی 7 نشستیں قائم کرنے کی تجویز ہے جبکہ اسلام آباد کی اپنی اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محکمے ہوں گے۔

اسمبلی ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کرنے کی تجویز

مجوزہ مسودے میں اسلام آباد کیلیے وزیر اعلیٰ یا میئر کے عہدے، اسمبلی کے 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کرنے، خواتین کیلیے 5 مخصوص نشستیں، اقلیتوں کیلیے 1 نشست مختص کرنے، صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولتیں مقامی حکومت کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے۔

اختیارات کے نظام کو مربوط ڈھانچے میں لانے کی تجویز

اس میں قانون، امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے، دیگر انتظامی معاملات منتخب حکومت کے حوالے کرنے، اسلام آباد میں اختیارات کے بکھرے نظام کو ایک مربوط ڈھانچے میں لانے، سی ڈی اے سمیت مختلف اداروں کے اختیارات ازسرنو ترتیب دینے، سی ڈی اے کے تمام اختیارات اور فرائض اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت دیگر اداروں کے فرائض منتقل کرنے اور اسلام آباد کے انتظامی امور کیلیے چیف سیکرٹری اور 4 سیکرٹریز تعینات کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق 4 سیکرٹریز کو مختلف انتظامی گروپس و محکموں کی ذمہ داری دینے کی تجویز ہے، اسلام آباد میں قائم تمام ادارے پورے آئی سی ٹی کیلیے کام کریں گے اور پورے پاکستان کیلیے قائم وفاقی ادارے اسلام آباد میں بھی بدستور کام جاری رکھیں گے۔

مجوزہ مسودے میں اسلام آباد کے نئے انتظامی نظام کیلیے جامع اور متحدہ قانون سازی، اور سی ڈی اے آرڈیننس 1960 میں ضروری آئینی ترامیم شامل کرنے کی سفارش ہے۔

ارکان اسمبلی پر آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق

وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش مجوزہ مسودے میں تجویز کیا گیا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت اپنے امور چلانے کیلیے قواعد کار خود مرتب کرے گی، اسمبلی کے ہر رکن پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا، انتخابات الیکشن کمیشن کے تحت منعقد ہوں گے، اسلام آباد کا چیف ایگزیکٹو میئر یا وزیر اعلیٰ کہلائے گا اور منتخب اسمبلی کو جوابدہ ہوگا، لا اینڈ آرڈر اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات وفاق متعلقہ وزارت یا گورنر کے ذریعے چلائے گا، اسمبلی کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خود مختاری حاصل ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے نئے ڈھانچے کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، منظوری کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی ہوگی۔

مجوزہ مسودہ اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف کو پیش کیا، کمیٹی میں طارق فضل، مصدق ملک، رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری، اسلام آباد کے دونوں ارکان اسمبلی اور سیکرٹری داخلہ شامل ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں