سابق کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ عاقب جاوید کو نتائج کی ذمہ داری لینا ہوگی انہوں نے ذمہ داری سرفراز اور بابر پر ڈال دی۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں سابق کپتان اظہر علی نے کہا کہ پاکستان کی کرکٹ کے حالات جلد حل نہیں ہوں گے، 4 سے 5 سال لگیں گے، ٹیم کی کپتانی کرنے کا یہ برا وقت ہے بابر اعظم بھی اپنے آپشن دیکھ رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم خراب کھیلنے میں مستقل مزاج ہوگئے ہیں، کرکٹ کو بہتر کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اظہر علی نے کہا کہ امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن حالات اچھے نہیں، کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج اچھی نہیں ہے اگر تیسرے ٹیسٹ میچ میں کچھ مقابلہ ہوا تو حیرانی ہوگی۔
اس سے قبل سابق کوچ جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بطور سلیکٹر ایسے سوچ بدلتے ہیں کہ جیسے کپڑے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ انہیں آئینہ دیکھنے اور اپنے فیصلوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی سلیکشن کی کوئی منصوبہ بندی نہیں اور نہ سلیکٹرز اور کھلاڑیوں میں کوئی رابطہ ہے۔ پلیئرز کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ٹیم سے باہر ہونے کا پتہ چل رہا ہے، جو کھلاڑیوں کی بے توقیری ہے۔
جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں لگ رہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی خوف کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ سلمان آغا کو پہلے ٹیسٹ میں کپتانی، دوسرے میں ڈراپ اور تیسرے سے قبل وطن واپس بلانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ نے پاکستان کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 سے شکست دے کر فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے، دونوں ٹیموں کے مابین تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔



