مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ اس وقت ملکی میڈیا میں زیرِ بحث ہے۔ عالمی سیاست اور بالخصوص اسلامی دنیا کے بڑے ممالک میں روابط اور تعلقات کے پس منظر میں اس معاہدے پر تجزیہ کار اپنا اپنا نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کو مختلف نام دیے جا رہے ہیں۔ کسی نے اسے مسلم نیٹو کی بنیاد قرار دیا ہے تو کوئی اسے سنی سیکیورٹی ٹرائیکا اور اسلامی دفاعی بلاک کہہ رہا ہے۔ تجزیہ کار اسے مشرق وسطی میں نئے اسٹریٹجک توازن کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔اس معاہدے نے حقیقتاً بھارت اور اسرائیل کو پریشان کر دیا ہے۔ جب کہ تینوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے اعلان کے بعد ایران کی جانب سے ابتدائی ردِ عمل نے ایک غلط تاثر کو بھی جنم دیا ہے۔ سب سے پہلے ہم بھارت اور اسرائیل کے ردِ عمل پر بات کرتے ہیں۔
بھارت کا ردِ عمل اور خدشات
مکہ دفاعی معاہدے پر بھارتی دارالحکومت میں تشویش پیدا ہونا لازمی ہے۔ نیو دہلی کی پالیسی ساز برادری اس سہ فریقی بلاک کو جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل توازن میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کا منہ زور، بے لگام اور صحافتی اقدار و آداب سے نابلد میڈیا اس معاہدے پر سیخ پا نظر آتا ہے۔ بھارت میں گودی میڈیا کی اس بوکھلاہٹ اور پریشانی کو اگر نئی دہلی کی پریشانی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آخر بھارت کو اس دفاعی معاہدے سے تکلیف کیوں ہے؟
پاکستان کے جیوپولیٹکل پروفائل میں اضافہ: گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت جنگ کے بعد خود بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان کا جیو پولیٹیکل پروفائل بہت بڑھ گیا ہے۔ یہی تشویش گزشتہ سال اس وقت بڑھی جب سعودی عرب اور پاکستان نے دو ملکی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے اور اب سہ فریقی دفاعی معاہدہ طے پانے پر بھارت خود کو مزید تنہا محسوس کررہا ہے۔
بھارت کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ سعودی عرب جو ماضی قریب میں بھارت کا بڑا معاشی و کاروباری شراکت دار سمجھا جاتا تھا۔ وہاں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے مسلم دنیا اور خصوصاً عرب ملکوں میں پاکستان کو نمایاں کیا ہے اور پاکستان کو اب خطّے میں ایک اہم عسکری اور سفارتی طاقت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بھارتی معیشت: نئی دہلی کے پالیسی سازوں کی نظر میں یہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ وہ اپنی محنت کش آبادی کے لئے دستیاب ایک بڑی منڈی کھونے کے خطرے سے بھی دوچار ہو گیا ہے۔ پاکستان کی طرح بھارت کی معیشت کا دار و مدار بھی خلیجی ملکوں سے بھجوائی جانے والی ترسیلات پر ہے۔ سعودی عرب میں کام کرنے والے بھارتی محنت کش سالانہ 16 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ بینکاری نظام کے ذریعے اپنے وطن بھجواتے ہیں۔ دفاعی معاہدے کے بعد بھارت کو یہ تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ مستقبل میں سعودی عرب میں اس کی افرادی قوت کی مانگ کم ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی معیشت میں ایندھن کی طلب مشرق وسطی کے ملکوں پر منحصر ہے۔ امریکی پابندیوں کے بعد بھارت نے روس اور ایران سے سستا ایندھن خریدنا بند کر دیا ہے۔ اور اگر مشرقِ وسطیٰ میں اسے سیاسی چیلنج کا سامنا رہتا ہے تو ایندھن کی سیکیورٹی کے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔
ترکیہ پاکستان عسکری تعاون کی قوت: ترکیہ پہلے ہی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت کرتا رہا ہے۔ اب ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی خاص طور پر ڈرونز، فضائی دفاعی نظام تک پاکستان کی رسائی آسان اور باضابطہ ہوجائے گی۔ اور یہ بات بھارت کے لیے عسکری توازن کے حوالے سے تشویش ناک ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے گزشتہ چند دہائیوں میں نہ صرف اپنی مسلح افواج کو جدید بنایا ہے بلکہ خود انحصاری کی مہم کے تحت دونوں ملکوں نے جدید عسکری ساز و سامان اور مختلف آلات بھی مقامی سطح پر تیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس صورتِ حال میں بھارت کے لیے پاکستان کے خلاف جارحیت کا سوچنا بھی محال ہے کیوں کہ اسے تین ملکوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی: بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد نریندر مودی نے پاکستان دشمنی کو اپنی داخلی پالیسی کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کا بھی حصہ بنایا اور پاکستان کو اقوام عالم میں تنہا کرنے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کیا۔ اس کا اظہار بھارتی پالیسی ساز اور خود نریندر مودی اعلانیہ کرتے رہے ہیں۔ بھارت نے اپنی سفارت کاری کی بنیاد پاکستان دشمنی پر رکھی اور وہ ان مسلم ملکوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست اور دہشت گرد ملک ہے۔ مگر اب اسے یہ پالیسی اپنے ہی خلاف استعمال ہوتی نظر آرہی ہے۔
اس معاہدے کے بعد بھارت کو خطّے میں اپنی سفارت کاری کی ترجیحات کا از سرِ نو جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔ بھارت کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر اس نے خلیجی ملکوں پر اپنی اہمیت اور ان کے لیے ضرورت کو ثابت کرنے کے لئے سفارتی سطح پر فوری کوشش نہ کی تو اس کو ترسیلات زر اور توانائی کی سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالیہ قربتوں کے بعد عرب دنیا کے دیگر ممالک اور ریاستیں کویت، بحرین، قطر اور عمان بھی پاکستان سے اپنے تعلقات میں گرم جوشی اور مضبوطی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔
اسرائیل کا ردِعمل اور خدشات
اسرائیل اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں پاور بیلنس کی تبدیلی کے نقطۂ نظر سے دیکھ رہا ہے۔ اور اسے سب سے زیادہ تشویش ہے۔
سعودی عرب، اسرائیل تعلقات کی بحالی پر اثرات: اسرائیل کو امید تھی کہ ابراہیم اکارڈ میں کسی بھی وقت وہ سعودی عرب کی شمولیت یقینی بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی سے قبل بھارت، عرب ملکوں سے اسرائیل تک ایک راہدری کے قیام پر بات چیت جاری تھی۔ جس کا باقاعدہ اعلان بھی ہوا تھا۔ مگر اس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار ہونے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اسرائیل کو جائز اور قانونی ریاست تسلیم نہیں کرتا ہے۔ جب کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کے بعد ترکیہ کے اسرائیل سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ان حالات میں سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا سیاسی، سفارتی دھچکا ہے۔ اسرائیل کے عسکری ماہرین کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ اس دفاعی چھتری کے تلے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی خلیجی ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔ جس سے خطّے میں اسرائیل کی روایتی عسکری برتری متاثر ہوگی۔
ترکیہ اور پاکستان کا اثر و رسوخ: فلسطین کے حق میں رجب طیب اردوان کا سخت مؤقف اور ہمدردی کے علاوہ مضبوط اسرائیل مخالف بیانیہ بھی اسرائیلی حکومت کے لیے پریشان کن ہے۔ لہٰذا خلیج میں ترکیہ کی باضابطہ عسکری موجودگی سے اسرائیل کو سیکیورٹی کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ دوسری جانب مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان جو کہ ایک بڑی عسکری طاقت بھی ہے، اپنی مسلسل اور مؤثر سفارت کاری کی وجہ سے نہ صرف دنیا کے سامنے اسرائیل کو ایک ناجائز، غیرقانونی اور قابض ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے بلکہ وہ فلسطینیوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا بڑا حامی بھی ہے۔ ادھر اسرائیل اور بھارت مل کر متعدد مرتبہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرچکے ہیں اور آپریشن سیندور میں اسرائیل اور بھارت کا عسکری گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آیا تھا۔ اسرائیل کی کوشش تھی کہ سعودی عرب کو کسی طرح ابراہیمی معاہدے میں باندھے مگر حالیہ دفاعی معاہدے کے بعد اسرائیل کو اپنا خواب مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
بھارت اور اسرائیل کی مشترکہ حکمتِ عملی
اس معاہدے کے جواب میں بھارت اور اسرائیل کی توجہ ان اقدامات پر مرکوز ہوگئی ہے۔
تجارتی راہداری کو فعال رکھنا: بھارت اور اسرائیل کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر تجارتی و تکنیکی بلاکس کو مضبوط کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اور اسرائیل مل کر متحدہ عرب امارات کو دیگر عرب ملکوں سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یونان اور قبرص کے ساتھ گٹھ جوڑ: جس طرح پاکستان کا بھارت کے ساتھ کشمیر کا تنازع ہے۔ اسی طرح ترکیہ کا یونان کے ساتھ قبرص کے حوالے سے ایک تنازع موجود ہے۔ پاکستان نے ترکیہ کے موقف کی ہمیشہ تائید کی ہے۔ اسی تنازع کو اب بھارت اور اسرائیل مل کر ترکیہ کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور دونوں ملک یونان کے ساتھ عسکری تعلقات کو بہتر بنا رہے ہیں۔
انٹیلیجینس شیئرنگ: دونوں ممالک کے درمیان مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی دفاعی پیشرفت پر انٹیلیجینس کا تبادلہ پہلے سے زیادہ تیز ہو گیا ہے۔ بھارتی شہریوں کا بڑے پیمانے پر اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی نیوی کے متعدد سابق اہلکار قطر میں جاسوسی کے الزام میں سزا پا رہے ہیں۔ اور یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ بھارت کسی بھی طرح سے عرب ملکوں میں موجود افرادی قوت کو اسرائیل کے لئے جاسوسی میں استعمال کرسکتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور ایران کا مؤقف
عراق کے کویت پر قبضے کے بعد عرب ملکوں میں سلامتی اور سیکورٹی کے خدشات پیدا ہوئے اورانہی خدشات کے نتیجے میں ان ملکوں نے امریکا کے ساتھ نہ صرف دفاعی معاہدے کیے بلکہ امریکا کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈّے قائم کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔ عرب ریاستوں قطر، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، اور سعودی عرب میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر برّی، فضائی اور بحری فوج کے افسران اور اہل کار تعینات ہیں۔ اس حوالے سے ایران کا مؤقف ہے کہ خطّے میں امریکی افواج نہ رہیں۔ ان فوجی اڈوں سے متعلق ایران کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص خلیج فارس میں امریکی اور مغربی افواج کی موجودگی اس کے لئے خطرہ ہے۔ اور یہی خدشہ حالیہ جنگ میں درست ثابت بھی ہوا ہے۔ امریکی افواج نے انہی اڈوں کا استعمال کرتے ہوئے ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایران نے ہمیشہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی زمین، فضائی حدود یا سمندوں کو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا اس پر حملوں کے لئے خلیجی فوجی بیسز کو استعمال کرے گا تو ایران عرب ملکوں میں امریکی اڈّوں کو نشانہ بنائے گا۔ اور اس نے ایسا کیا بھی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تینوں مسلم ملک کسی بھی بیرونی جارحیت یا دہشت گردی کی صورت میں مل کر دفاع کریں گے۔ ترکیہ کے سفارتی ذرائع نے اس معاہدے کو ایران سمیت کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کے بجائے باہمی دفاعی معاہدہ قرار دیا ہے۔ گو کہ بظاہر یہ معاہدہ خطے سے امریکی عسکری اثر و رسوخ کے خاتمے کا اقدام نظر نہیں آتا ہے مگر گہرائی سے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ معاہدہ دراصل ایران کے اس مؤقف کی تائید ہے کہ خطے میں امریکی عسکری اثر رسوخ کو ختم یا کم کیا جائے۔
اس معاہدے پر ایران کا ابتدائی ردعمل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی کی جانب سے آیا جس میں انہوں نے مکہ دفاعی معاہدے کو کاغذی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاض کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کرسکتا۔ جس سے یہ رائے قائم ہوئی کہ ایران اس سہ فریقی معاہدے کا مخالف ہے۔ اس حوالے سے اب ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا باضابطہ بیان سامنے آگیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ دفاعی معاہدہ ایران کے لئے خطرہ نہیں۔
اسماعیل بقائی نے امریکی فوجی مراکز کے حوالے سے ایران کا دیرینہ مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں انتشار اور عدم استحکام کا سبب امریکا ہے۔ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے امریکا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔
اس معاہدے پر ایران کے مؤقف کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لئے ایرانی صدر مسعود بزشکیان کے 23 جون 2026ء کے دورۂ پاکستان میں ایک موقع پر دیا گیا بیان بہت اہم ہے۔ انہوں نے علاقائی سلامتی اور پائیدار امن کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی تجویز پیش کی تھی۔ مسعود بزشکیان نے ایران امریکا مذاکرات اور پیش رفت میں پاکستان کی ثالثی اور اس کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان پر ایران کے اعتماد کی بدولت علاقائی استحکام اور امن کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے خطے میں سلامتی اور امن کے لئے دو نکات پیش کیے تھے۔
علاقائی سیکورٹی فریم ورک: مسعود پزشکیان نے خطّے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت ختم کرنے اور ایک نیا علاقائی سلامتی فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطّے کے تمام مسلم ممالک کو متحد ہو کر مشترکہ محاذ بنانا چاہیے تاکہ علاقائی مسائل کو باہمی بات چیت اور تعاون سے حل کیا جا سکے۔
بیرونی مداخلت کا خاتمہ: ایرانی صدر نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے خطے میں امن، استحکام اور ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب بیرونی افواج یا غیر علاقائی طاقتوں کی مداخلت کو روکا جائے اور خطے کے ممالک آپس میں سیدھی اور ایماندارانہ بات چیت کریں۔
اس معاہدے کے حوالے سے یہ کہنا درست ہوگا کہ اسرائیل اور بھارت کو تکلیف دراصل ان کی مسلم دشمنی اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے ہے۔ مگر ایران کے ابتدائی ردعمل کی وجہ سے ایک ایسا تاثر قائم ہوا تھا کہ شاید ایران بھی اس کی مخالفت کر رہا ہے تاہم اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ ایران کے اس مؤقف کی تائید ہے جس میں وہ خطّے میں امن اور سلامتی کے لئے مغربی طاقتوں خصوصا امریکا کے فوجی اڈوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔



