ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ناگہانی آفات، المیوں اور جرائم کی خبروں کی شکل میں گھلنے والی تلخی، سوشل میڈیا پر مختلف افسوس ناک واقعات کی وائرل ہوتی ویڈیوز اور گلی محلو ں میں بڑھتی ہوئی مایوسی دیکھ کر اکثر یوں محسوس کرتے ہیں جیسے ہر طرف تاریکی کا راج ہے۔ مسائل کا ایک ایسا گہرا سمندر ہے جس میں ہر شخص غرق ہو رہا ہے اور بہتری کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ لیکن کیا واقعی سب کچھ ختم ہو چکا ہے؟
اگر ہم اس ظاہری شور و غوغا سے ہٹ کر ذرا باریکی سے دیکھیں، تو ہمیں اپنے ہی ارد گرد چند ایسے خاموش کردار نظر آئیں گے جو اس مایوسی کے طوفان میں امید کی کرن بن کر کھڑے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حالات کے جبر کے آگے سر خم کرنے کے بجائے اپنے طور پر حالات کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے وہ انمول انسان ہیں جنہیں “یقین کے جگنو” کہا جا سکتا ہے۔
یہ “یقین کے جگنو” کوئی بڑے لیڈر، سرمایہ دار یا با اَثر شخصیات نہیں ہوتے، بلکہ ہمارے اور آپ جیسے عام انسان ہی ہوتے ہیں۔ یہ وہ استاد ہیں جو اپنے تدریسی اوقاتِ کار کے علاوہ بھی غریب گھرانوں کے بچّوں کو وقت نکال کر مفت تعلیم دیتے ہیں، یہ وہ نوجوان ہیں جو شہرت کی تمنا اور کسی ستائش کی آرزو کے بغیر اسپتالوں کے باہر غریبوں اور محتاجوں کو کھانا مہیا کرتے ہیں، یہ وہ بوڑھے ہاتھ ہیں جو سڑک کے کنارے پودے لگا کر آنے والی نسلوں کے لیے چھاؤں کا بندوبست کرتے ہیں، اور یہ وہ عام شہری ہیں جو سڑک پر پڑا کچرا یا پتھر محض اس لیے ہٹا دیتے ہیں تاکہ کسی دوسرے کو تکلیف نہ ہو۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ تاریکی کا شکوہ کرنے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اپنے حصے کی شمع جلانی پڑتی ہے۔
ان لوگوں کی سب سے بڑی طاقت ان کا ناامید نہ ہونا ہے۔ وہ اس بات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں کہ ان کی چھوٹی سی کوشش بھی بے سود اور بیکار نہیں ہے۔ اندھیری رات میں جگنو کی روشنی شاید پورے جنگل کو روشن نہ کر سکے، لیکن وہ بھٹکے ہوئے مسافر کو راستہ دکھانے اور اس کے اندر اپنی منزل تک پہنچ جانے کی امید قائم رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ جب لوگ ان سے کہتے ہیں کہ “تمہارے اکیلے کے کرنے سے کیا بدل جائے گا؟” تو ان کا عمل یہ سبق دیتا ہے کہ تبدیلی کا سفر ہمیشہ ایک قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔
ان کی یہ خاموش جدوجہد صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے دل میں امید کی کرنیں پیدا کرتی ہے۔ جب ایک شخص کو بغیر کسی مفاد کے نیکی اور خدمت کرتے دیکھا جاتا ہے، تو دوسروں کے اندر بھی خیر کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ یوں یقین کی یہ روشنی آہستہ آہستہ پھیلتی چلی جاتی ہے۔ یہی لوگ اس امر کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ انسانیت نہ مردہ ہوئی ہے اور نہ ہی اس کا جذبہ مٹی میں مل گیا ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بڑے معجزے یا مسیحا کا انتظار کرنے کے بجائے، ہمیں خود اپنی سطح پر کوشش کرنا ہو گی اور یہی کوشش معجزہ بن سکتی ہے۔ اگر ہر انسان اپنے گرد و پیش میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک قدم اٹھائے اور چھوٹی سی کوشش کرے، تو یہ “یقین کے جگنو” ایک ایسی سحر پیدا کر سکتے ہیں جو مایوسی کے ہر اندھیرے کو نگل جائے گی۔ روشنی چاہے جتنی بھی محدود ہو، اندھیرے کا غرور توڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔



