شیشے کے بکس میں محوِ استراحت لینن

0
7

مقبرے میں داخل ہوئے تو پہلے اندھیرے سے سابقہ پڑا سیٹرھیاں کافی نیچے اترتی چلی گئیں۔ پھر دو بار بائیں طرف کا چکر کاٹ کر اوپر سیڑھیاں چڑھنا شروع کیا۔ دو ایک سیڑھیاں چڑھے ہوں گے کہ بائیں طرف ایک پلیٹ فارم پر شیشے کے بکس میں لینن کی لاش محوِ استراحت نظر آئی۔اوپر سے اس پر اتنی روشنی پڑ رہی تھی کہ چہرے کے تمام نقوش واضح تھے۔ صرف سَر اور چہرہ گردن تک اور ہاتھ نظر آرہے تھے۔ باقی جسم غالباً ایک پیتل کی چادر میں ڈھکا تھا۔ میں نے اس طرح سے کسی لاش کو زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ بہت متاثر ہوا۔ باہر آئے تو مقبرے کے پیچھے کریملن کی دیوار کے ساتھ روس کے متعدد لیڈروں، جرنیلوں، عالموں اور شاعروں کی قبریں نظر آئیں جو زیادہ بڑے لیڈر تھے، ان کے مجسمے بھی قبروں کے اوپر بنے ہوئے تھے۔ اسٹالن کا مجسمہ بھی اس کی قبر کے اوپر روس کے بعض دوسرے لیڈروں کے ساتھ بنا ہوا نظر آیا۔

لینن کے مقبرے اور دوسرے عظیم روسی رہنماؤں کی قبروں کی زیارت کے بعد ہم لوگ کریملن میں داخل ہوئے۔ کریملن زارِ شاہی کے زمانے کی یادگار ہے۔ جس میں لینن ایک فاتح کے طور پر 12 مارچ 1918ء کو دن کے 12 بجے پوری پرولتاری شان کے ساتھ داخل ہوا۔ آج کریملن روسی کمیونسٹ پارٹی اور حکومت کے اہم ترین دفاتر سے آباد ہے۔ ماسکو اگر سارے روس کا دل ہے تو کریملن ماسکو کا دل ہے اور کریملن کو دیکھے بغیر ماسکو سے واپس جانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص راشٹر پتی بھون، سنٹرل سیکریٹریٹ اور لال قلعہ دیکھے بغیر دہلی سے واپس چلا جائے۔

کریملن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ تاریخ بارھویں صدی سے شروع ہوتی ہے اور اس کی عمارتیں دیکھ کر دل پر وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جو دہلی کا لال قلعہ، لاہور کا قلعہ یا آگرے کا قلعہ دیکھ کر۔ فرق صرف اتنا ہے کہ متذکرہ بالا قلعے آج صرف تاریخی نشانیاں بن کے رہ گئے ہیں، اور کریملن ایک تاریخی یادگار ہونے کے ساتھ ہی ساتھ حکومت روس کا جیتا جاگتا صدر دفتر بھی ہے۔ ہم لوگ کریملن ٹراٹسکی گیٹ سے داخل ہوئے اور اس کی مختلف عمارتیں اور کتھیڈرل دیکھتے ہوئے کوئی دو گھنٹے کے بعد بوروٹسکی گیٹ سے باہر واپس آئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں