درگاہ حضرت روشن چراغ

0
8

ہ تذکرہ ہے برصغیر کے سلسلۂ چشتیہ کے نام ور صوفی بزرگ حضرت خواجہ نصیر الدّین محمود چراغ دہلویؒ کا جو اپنے مریدین اور ارادت مندوں میں “روشن چراغ دہلی” مشہور ہوئے۔

مالویہ نگر کالکا جی روڈ پر خان پور کی طرف جاتے ہوئے دائیں ہاتھ کو چراغ دہلی روڈ ہے۔ یہ روڈ سیدھی درگاہ حضرت شیخ نصیر الدین محمود کو جاتی ہے۔ اس درگاہ میں ان کا مقبرہ بھی ہے۔

کہتے ہیں کہ آپ کے معتقد سلطان فیروز شاہ تغلق نے درگاہ میں آپ کی زندگی ہی میں مقبرہ تعمیر کرا دیا تھا۔ محمد شاہ بادشاہ (۱۷۱۹-۱۷۴۸ء) نے درگاہ کے چاروں طرف بہت مضبوط فصیل بنوائی تھی۔ ۱۹۴۷ء میں لوگوں نے فصیل توڑ کر اس پر مکان بنا لیے۔ فصیل کے چاروں کونوں پر برجیاں تھیں۔ اب بس ایک برجی باقی ہے۔ اس پر بھی کسی کا قبضہ ہے۔ فصیل کے چار دروازے تھے۔ یہ دروازے بہت ٹوٹی پھوٹی حالت میں باقی ہیں۔ مقبرہ مستطیل اور ۱۸۰ فٹ لمبا ۱۴۰ فٹ چوڑا اور ۱۲ فٹ اونچا ہے۔ درگاہ کا صدر دروازه ڈیوڑھی نما ہے اور درگاہ کے شمال مشرق کونے میں ہے۔ اس ڈیوڑھی پر ایک بڑا سا گنبد ہے۔ یہ دروازہ اور اس کا بند فیروز شاہ تغلق نے بنوایا تھا۔ مقبرے کے شمال مغرب میں ایک سہ دری مسجد ہے جو بہت قدیم ہے۔ کچھ سال پہلے مسجد کے شمال میں تین دروں کے دالان کا اور اضافہ کیا گیا ہے۔ مقبرے کے پاس دو برج ہیں۔ مغرب کی طرف جو برج ہے، اس میں شیخ فرید شکر گنج کے پوتے مدفون ہیں۔ اور مشرق میں جو برج ہے، اس میں مخدوم زین الدین علی صاحب کی قبر ہے۔ یہ حضرت شیخ نصیر الدین محمود کے بھانجے تھے۔ اس کے برابر میں ایک حجرہ ہے، جس کے چاروں طرف دس جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس میں حضرت چراغ دہلی کے جانشین شیخ کمال اللہ دین علّامہ آسودہ ہیں۔

حضرت چراغ دہلی کا مقبرہ تیس فٹ مربع ہے۔ مقبرے پر ایک گنبد ہے۔ چاروں کونوں پر آٹھ آٹھ فٹ اونچے پتلے پتلے مینار ہیں۔ مقبرے کے چھت کے چاروں طرف چھجا ہے۔ مقبرے کے بارہ در ہیں۔ گیارہ دروں پر جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ جنوب کی طرف گیارہواں در دروازے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ پورا مقبرہ لال پتھر کا بنا ہوا ہے۔ اب ستونوں اور گنبد پر ہرا رنگ اور جالیوں پر سفیدی کر دی گئی ہے۔ بشیر الدین احمد نے لکھا ہے کہ مقبرے کے اندر سنہرا کٹورا لٹکا ہوا ہے۔ اب یہ کٹورا نہیں ہے اور درگاہ کے متولی کو اس کا علم نہیں کہ یہ کٹورا کب غائب ہوا اور کس نے غائب کیا۔

(سر سید احمد خان کی مشہور کتاب آثار الصنادید سے اقتباس، یہ کتاب دہلی کے آثارِ قدیمہ، تاریخی عمارتوں اور نامور شخصیات کے تذکرہ پر مبنی ہے اور 1847ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی)

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں