لاہور کے سینما گھر اور اے حمید

0
1

لاہور کے سینما گھروں اور تھیٹروں کی تاریخ بھی کافی پرانی ہے اور ان کے ساتھ لاہور شہر کی ادبی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی کی بڑی اہم روایات وابستہ ہیں۔ سب سے پہلے میں لاہور کے کچھ پرانے اور کچھ نئے سینما گھروں کا ذکر کروں گا۔

لاہور کے ریوالی سینما میں میں نے پہلی فلم دیوداس دیکھی تھی۔ میں کسی کی گود میں بیٹھا ہوا تھا اور میرے کانوں میں کسی کی آواز پڑی تھی جس سے مجھے معلوم ہوا کہ جو فلم اسکرین پر چل رہی ہے اس کا نام دیو داس ہے۔ اس کے بعد اس سینما گھر میں میں نے اس وقت کے مشہور بیرو شاہو مووک کی فلم لیل و نہار دیکھی۔ اس وقت میری عمر چھ سات برس ہوگی۔ ہمارا اپنا گھر امرتسر میں تھا مگر لاہور میں کچھ ایسی رشتے داریاں تھیں کہ امرتسر سے لاہور آنا جانا لگا ہی رہتا تھا۔ میری سب سے بڑی بہن تو مستقل طور پر لاہور آگئیں تھیں۔ ہفتے میں دو تین چکر میرے ان کے ہاں لگ جاتے تھے۔ ریوالی سینما کا پہلا نام منور تھیٹر تھا۔ یہاں پہلے تھیڑ کے کھیل دکھائے جاتے تھے جو میرے ہوش سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد اس کا نام نولکھا سینما پڑ گیا۔ پھر ریوالی سینما رکھ دیا گیا۔ سینما گھر لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے بادامی باغ کو جانے والی سڑک پر واقع تھا۔ شروع ہی سے مجھے انگریزی فلمیں دیکھنے کا شوق تھا۔ امرتسر کے چھاؤنی والے سینما گھر میں انگریزی فلمیں چلتی تھیں مگر یہ سینما گھر گورے فوجیوں کے لیے ایک بارک میں پردہ ڈال کر بنایا گیا تھا۔ ہال میں بینچ بچھے ہوتے تھے۔ یہ بے آرام سینما گھر تھا۔ اس زمانے میں ریوالی سینما میں بھی انگریزی فلمیں لگنے لگیں اور یہاں اکثر خوفناک فلمیں لگتی تھیں جو مجھے بہت پسند تھیں۔ چنانچہ میں امرتسر سے ریل میں بیٹھ کر لاہور پہنچتا۔ چونکہ میں عام طور پر بغیر ٹکٹ سفر کرتا تھا اس لیے ریل سے اتر کر لائنوں لائن بادامی باغ کی طرف چل پڑتا۔ ریوالی سینما کے عین سامنے ریلوے لائن کی دو مرد اونچی دیوار کے ساتھ بجلی کا ایک کھمبا لگا ہوا تھا۔ میں اس کھمبے سے لپٹ کر گھسٹتا ہوا نیچے سڑک پر اتر آتا۔ سینما گھر میں جاتے ہی تھرڈ کلاس کی ٹکٹ لیتا اور ہال لگی بینچ پر جا کر بیٹھ جاتا۔ میں نے یہاں جو انگریزی فلمیں دیکھیں ان میں سے مجھے فرینکن اسٹائن اور دی وولف مین، فرینکن اسٹائن اینڈ دی وولف مین وغیرہ فلمیں آج بھی یاد ہیں۔ فلم دیکھنے کے بعد میں سیدھا ریلوے اسٹیشن پر آتا۔ رات کو امرتسر جانے والی آخری ٹرین پٹھان کوٹ ایکسپریس تیار ہوتی تھی۔ اس میں سوار ہو جاتا اور رات ساڑھے دس بجے کے قریب امرتسر پہنچ جاتا۔ گھر میں کوئی پوچھتا تو کہتا کہ لکڑمنڈی میں دوستوں کے ساتھ لیڈی بہادر کھیل رہا تھا۔ کبھی کبھی والد صاحب سے مار بھی پڑ جاتی۔

لاہور کا چوک بھاٹی گیٹ قدیم سینما گھروں کا گڑھ تھا۔ یہاں دو تین سینما گھر تھے جو قیام پاکستان سے بہت پہلے تعمیر ہوئے تھے۔ بلکہ خاموش فلموں کے ساتھ ہی بن گئے تھے۔ مگر مجھے یہاں خاموش فلموں کا زمانہ یاد نہیں۔

لاہور کے چوک بھاٹی گیٹ کے عین درمیان میں جو سینما گھر تھا وہاں اس زمانے میں گل حمید کی فلم باغی سپاہی لگی تھی۔ اس فلم کی بڑی شہرت تھی۔ یہ کاردار نے بنائی تھی اور سارے ہندوستان میں بڑی مقبول ہوئی تھی۔ میں نے یہ فلم اس سینما ہاؤس میں اگلے بنچوں پر بیٹھ کر دیکھی جس کے دو چار منظر خواب کی طرح یاد رہ گئے ہیں۔

ایک اور سینما ہاؤس بھاٹی گیٹ کے سامنے ضلع کچہری والی سڑک کے کنارے واقع تھا۔ یہ سینما گھر آج بھی ہے۔ جس سینما گھر میں باغی سپاہی فلم لگی تھی شاید اس کا نام کراؤن سینما تھا۔ وہ ڈھا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اب سڑک بن گئی ہے۔ بھاٹی گیٹ کے سامنے والے سینما گھر میں پنجابی کی فلم سہتی مراد لگی۔ میں بڑے شوق سے یہ فلم دیکھنے گیا تھا۔

ہیرا منڈی میں دو سینما گھر تھے۔ ایک چوک میں تھا اور دوسرا سینما ٹکسالی دروازے کی طرف جائیں تو بائیں ہاتھ واقع تھا۔ یہ بڑے گندے سینما ہاؤس ہوا کرتے تھے۔ ہال کی کرسیوں اور بینچوں میں کھٹمل بھرے ہوتے تھے، کٹھمل سے میں شروع ہی سے الرجک رہا ہوں۔

ہیرا منڈی کے چوک میں جو سینما گھر ہے وہاں شاید ہی میں نے کوئی فلم دیکھی ہو۔ قیام پاکستان کے بعد یہ سینما گھر میرے ایک دوست نے ٹھیکے پر لے لیا تھا۔ ایک بار اس کے ساتھ گیلری میں بیٹھ کر انگریزی فلموں کے دو ٹکڑے دیکھے تھے جو سنسر کر دیے گئے تھے۔

لاہورکے ریگل اور پلازہ سینما بھی کافی پرانے ہیں، مگر اتفاق کی بات ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے یہاں میں نے کوئی فلم نہیں دیکھی تھی۔ ریگل سینما میں قیام پاکستان کے بعد فلم دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہاں بڑی اعلی پائے کی معیاری انگریزی فلمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پلازہ سینما میں بھی بڑی اچھی انگریزی فلمیں لگتی تھیں۔

میکلوڈ روڈ کی طرف آجائیں تو یہاں نشاط سینما کی شہرت سب سے زیادہ تھی۔ ریجنٹ سینما، رٹز سینما، قیصر سینما اور صنوبر سینما بھی پاکستان سے پہلے کے تھے۔

اوڈین سینما کی کہانی بھی بری عبرت ناک ہے۔ اس کا مالک کوئی ہندو سیٹھ تھا۔ اس نے بڑے شوق سے یہ سینما گھر بنوایا۔ اسے ہر طرح کی آرائش اور جدید مشینری سے لیس کیا۔ سینما ہاؤس تیار ہو گیا۔ بجلی بھی آگئی۔ پہلی فلم کی نمائش کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ فسادات شروع ہو گئے۔ پھر پاکستان بن گیا اور یہ سینما گھر کسی مسلمان مہاجر کو الاٹ ہو گیا۔ یہاں بھی شروع شروع میں انگریزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ بعد میں اردو پنجابی فلموں کی نمائش بھی ہونے لگی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں