سانحہ پمز اسپتال پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس سربراہ کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایک رکن نے کہا کہ پمز میں آتشزدگی واقعے کے بعد متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
ممبر قائمہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ ایک خاتون نے کہا کہ ہمارے بچے تو جھلس گئے مگر ڈاکٹرز اور عملہ محفوظ رہا، عملہ بیان دے رہا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر بھاگ گئیں، جنہیں ہم نے بچایا۔
ممبر قائمہ کمیٹی نے کہا کہ عملے کی ایک رکن نے کہا کہ انہوں نے اسپارک دیکھا اور باہر چلی گئیں تو خاتون نے کسی کو بتایا کیوں نہیں یہ بھی پوچھا جائے گا جب کہ ڈاکٹرز کے بیانات میں بھی تضادات ہیں۔ اس سب کو دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا پورے اسپتال میں صرف نرسری ہی حادثے کا شکارہوئی، لیکن نرسری میں بیڈز پر جو چادریں تھیں، اس پر ہمیں جلنے کا کوئی نشان نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں نومولودوں کے لیے جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں تھی، وہ نہیں تھیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر صحت اور سربراہ پمز کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آن ڈیوٹی ڈاکٹرز کے لائسنس لائف ٹائم معطل کریں۔
سربراہ قائمہ کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ آگ کیسے لگی ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوسکی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی پتہ نہیں چل رہا کہ آگ کیسے لگی۔
ہمارے تحفظات ہیں کہ اس مقام پر نرسری ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔ کمیٹی کا اجلاس بلا رہے ہیں جس میں مختلف مسائل پر بات ہوگی۔ پی ٹی آئی سے درخواست ہے اس کمیٹی میں ضرورشامل ہوں۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ کس کی کوتاہی ہے اور کون ذمہ دار ہے اس کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔ آڈٹ کب ہوا، فائر سیفٹی کیلیے کیا اقدامات تھے یہ ساری تحقیقات ہونگی۔ تاہم قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، اور اداروں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔



