لندن: لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے دی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ تسخیر برتری حاصل کر لی ہے۔
چوتھے دن کا کھیل اور انگلینڈ کی دوسری اننگز: میچ کے چوتھے دن انگلینڈ نے اپنی نامکمل دوسری اننگز 177 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائی۔ میزبان ٹیم کی آخری 3 وکٹیں گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 31 رنز کے اضافے پر گر گئیں، اور پوری انگلش ٹیم 54.2 اوورز میں 208 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ کی جانب سے ڈین لارنس نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 70 گیندوں پر 54 رنز کی اننگز کھیلی، جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کی چھٹی نصف سنچری تھی۔
پاکستان کی طرف سے تجربہ کار بولر محمد عباس سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے 57 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ 36 سالہ محمد عباس کی لارڈز کے میدان پر 5 وکٹیں لینے کا یہ پہلا موقع ہے، جبکہ تاریخی گراؤنڈ پر کسی بھی پاکستانی بولر کی یہ ساتویں بہترین پرفارمنس ہے۔ ان کے علاوہ خرم شہزاد اور محمد علی نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یاد رہے کہ پہلی اننگز میں انگلینڈ کے 290 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی، جس کے بعد انگلینڈ نے 80 رنز کی برتری کی بنیاد پر پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان کی دوسری اننگز اور مزاحمت: ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کو آغاز میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پہلی اننگز کی طرح اوپنر امام الحق پنڈلی کی تکلیف کے باعث دستیاب نہیں تھے۔ شان مسعود کے ساتھ اذان اویس نے اننگز کا آغاز کیا، لیکن صرف 14 کے مجموعی اسکور پر اذان اویس، عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم پویلین لوٹ چکے تھے۔
اس نازک صورتحال میں سابق ٹیسٹ کپتان شان مسعود اور مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا دیا۔ کھانے کے وقفے کے بعد بارش سے کھیل کچھ دیر متاثر ہوا، لیکن کھیل دوبارہ شروع ہونے پر 111 کے اسکور پر پاکستان کو چوتھا نقصان اٹھانا پڑا۔ اولے رابنسن کی ایک اندر آتی گیند شان مسعود کے پیڈز پر لگی، امپائر کے ناٹ آؤٹ دینے کے باوجود ڈی آر ایس نے فیصلہ تبدیل کروایا اور شان مسعود 72 گیندوں پر 26 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس طرح سعود اور شان کے درمیان 97 رنز کی اہم شراکت کا خاتمہ ہوا۔
اس کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان بھی زیادہ دیر پویلین میں نہ ٹک سکے اور صرف 9 گیندیں کھیل کر رابنسن کا شکار بن گئے۔ چائے کے وقفے کے بعد علی عثمان بھی 16 رنز بنا کر جوفرا آرچر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ایک طرف وکٹیں گرتی رہیں لیکن سعود شکیل نے انتہائی شاندار کھیل پیش کیا۔ وہ بدقسمتی کا شکار ہوئے اور اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری سے محض 3 رنز کی دوری پر جوش ٹونگے کی گیند پر پل شاٹ کھیلتے ہوئے باؤنڈری لائن پر کیچ دے بیٹھے۔ سعود شکیل نے 122 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 97 رنز کی دلیرانہ اننگز کھیلی۔ پوری پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 194 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
انگلینڈ کی جانب سے اولے رابنسن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے صرف 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ آئندہ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ پر شروع ہوگا۔



