“تنہائی کے سو سال” 1967ء میں شایع ہوا تھا۔ کئی برس بعد مارکیز کے قلم سے نکلی اسی کہانی کو ویب کے پردے پر پیش کیا گیا اس کا پہلا حصّہ 2024ء میں 8 اقساط میں ڈھل کر نیٹ فلکس پر ریلیز کیا گیا اور اس سال مزید 7 اقساط پر مشتمل دوسرا حصّہ بھی سامنے آیا اور 26 اگست کو مارکیز کے اس شاہکار ناول کی فلمی پردے پر تکمیل ہوگئی۔
چند سال کے دوران دنیا بھر میں ناظرین کی دل چسپی اور توجہ نے ویب سیریز بنانے کے رجحان میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس میں نئی کہانیوں کے ساتھ ساتھ شاہکار ناولوں کو فلم کے پردے پر پیش کرنا بھی شامل ہے۔ کولمبیا کی مشہور پروڈکشن کمپنی ڈائنامو اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے اس ویب سیریز کو تین باصلاحیت ہدایت کاروں نے بنایا ہے۔ اس کی آخری تقریباً 2 گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھی۔
مارکیز کو ایک جادوئی حقیقت نگار کہا جاتا ہے۔ وہ کولمبیا کے داستان گوئی کی روایات سے مالا مال ایک خاندان میں پیدا ہوئے اور بطور ناول نگار غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ ان کا ناول تنہائی کے سو سال اور وبا کے دنوں میں محبت کو بے مثال کہا جاتا ہے جو محبت، یادداشت، اور سیاسی خلفشار جیسے گہرے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ تنہائی کے سو سال نسل در نسل چلنے والی کہانی ہے جو ایک قصبے میکونڈو میں بوئندیا خاندان کے مختلف ادوار کا احاطہ کرتی ہے۔
کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ادیب گیبریل گارشیا مارکیز کے ناول پر مبنی ویب سیریز کی کُل اقساط کی تعداد 16 ہے۔ معروف ناول نگار، صحافی اور فلمی ناقد اقبال خورشید لکھتے ہیں کہ تنہائی کے سو سال( ویب سیریز) کی آخری قسط گزشتہ دنوں نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی، مگر اس کے دوسرے سیزن اور گرینڈ فنالے، دونوں پر کم از کم پاکستانی سوشل میڈیا پر موجود فلم کے شائقین اور مارکیز کے مداحوں نے زیادہ بات نہیں کی، جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید اکثریت کی دل چسپی صرف پہلے سیزن ہی تک محدود تھی۔ یا پھر بہتوں کی دل چسپی اس کے بعد ختم ہوگئی اکثر نے اسے ناول کے ہم پلہ خیال نہیں کیا۔ ناول اور ویب سیریز کے تقاضے بلاشبہ مختلف ہوتے ہیں۔ ناول میں جہاں حیرت انگیز چیزوں، ناممکنات، حتیٰ کہ طلسمی واقعات کو سہولت سے بیان کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، وہاں سنیما یا ویب سیریز میں اس منظر کو Elevate اور Exaggerate کرنا ضروری ہے، ورنہ وہ اپنا اثر کھو دے گا۔ اب اگر تجسس کو بڑے پردے سے ہٹا دیں تو محض حقیقت رہ جائے گی۔ اسی طرح جنس نگاری، جو اس ناول کا ایک خاص موضوع ہے، بلکہ کہہ لیں، کردار ہے، وہ ٹکڑے جب بڑے پردے پر آئے، تو انھیں بڑی حد تک ویسے ہی دکھایا گیا ہے، جیسے بڑے پردے پر دکھایا جاتا ہے، حالاں کہ ناول میں جنسی مناظر بصری نہیں، معنوی حیثیت رکھتے تھے۔
پہلے سیزن میں یقینی طور پر کچھ مناظر ہمیں ناول کی یاد دلاتے ہیں، جیسے رابیکا کی بوئندیا خاندان کے گھر آمد، ملکیادیس اور پکھی واس، ارسلا کا کردار، مگر کچھ مناظر اتنے اثر انگیز ثابت نہیں ہوتے، جیسے ارکادیو کے قتل کے بعد اس کے گھر سے بہتی ہوئی خون کی لکیر کا بوئندیا خاندان کے گھر تک پہنچنا، یا پھر کرنل اوریلیانو بوئندیا کا فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا ہونا۔
گرینڈ فنالے میں البتہ یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ چیزوں کو اسی مبالغہ آرائی کے ساتھ دکھایا جائے، جیسا بڑا پردہ تقاضا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آخری منظر میں جب پورا میکونڈو زوال پذیر ہوتا ہے اور بوئندیا خاندان کا گھر تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اور تیز و تند ہوائیں سب کچھ اڑا لے جاتی ہیں، تو اسے فلمی تقاضوں کے مطابق ہی تصویر کیا گیا ہے۔
مارکیز خوان رلفو کے شہرۂ آفاق ناول “پیڈرو پارامو” سے بہت متاثر تھا اور کہا کرتا تھا کہ یہ ناول اسے لفظ بہ لفظ یاد ہے۔ ناول تنہائی کے سو سال پڑھتے ہوئے تو اتنی شدت سے احساس نہیں ہوا، لیکن جب اس کی بصری پیشکش اس ویب سیریز کی صورت سامنے آئی اور آخر میں میکونڈو کو زوال ہوا، تو یک دم یہ ادراک ہوا کہ دراصل مارکیز نے “پیڈرو پارامو” کے قصبے کے آسیب زدہ بننے سے پہلے کے ڈیڑھ سو برس کا قصہ بیان کرنے کی سعی کی تھی۔
اور وہ قصبہ میکونڈو ہی تھا۔



