ڈاکٹر اسامہ کے باس کا ’باس‘ کون ہے؟ میر رضا کے وکیل نے پوچھ لیا

0
11

کراچی: مقتول میر رضا علی کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ بتایا جائے ڈاکٹر اسامہ کے باس کا ’باس‘ کون ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو اے آئی جی آزاد خان کے فون پر وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا پڑا جب سی ایم ہاؤس میں بیٹھ کر کہا جائے گ کہ باس کے باس کی بات مانو تو سوال وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ ضیا لنجار سے بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم حق بجانب ہیں کہ وفاقی اداروں کی مداخلت اور جے آئی ٹی کا مطالبہ کریں، اسامہ کو بلانے والوں کی معطلی تو دور کی بات ہے ان کا تبادلہ تک نہ ہوا۔

اس سے قبل میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے روبرو پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو طلب کیا گیا، جہاں کمیشن نے ان سے تفصیلی جرح کی۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران ڈاکٹر اسامہ نے اعتراف کیا کہ انہیں ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کی کال پر وزیراعلیٰ ہاؤس بلایا گیا تھا جہاں ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو بھی موجود تھے اور انہوں نے کیس کی ٹائم لائن مانگی تھی۔

ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدا میں انہیں تھانے بلایا گیا تھا لیکن انہوں نے آفیشل لیٹر کا مطالبہ کیا، جس پر انہیں اپنے باس کے حکم پر ہر صورت عمل کرنے کی ہدایت کی گئی، انہوں نے کہا کہ اپنے باس کے باس کے حکم پر ہر صورت عمل کرو۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بھی انہیں فون کر کے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی ہدایت کی تھی، تاہم انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ ڈاکٹر سُميہ جو کچھ کر رہی ہیں وہ درست ہے اور وہ ان کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے کبھی میر رضا کی خودکشی کی بات نہیں کی۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے یونیورسٹی روڈ پر نوجوان میر رضا کو قتل کیا گیا جس کے قاتلوں کو پولیس تاحال گرفتار نہیں کرسکی ہے اور کیس اب تک حل طلب ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں