ممبئی(4 ستمبر 2026): بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ کی مشہور فلم ‘سوادیس’ کے لیے عامر خان، ریتک روشن اور مادھون پہلی پسند کیوں نہ بن سکے؟ حیرت انگیز انکشاف سامنے آ گیا۔
بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کی سال 2004 میں ریلیز ہونے والی شاہکار فلم ‘سوادیس’ کو اپنی حقیقت پسندانہ کہانی، سماجی مسائل، دیہی بھارت اور ثقافتی پس منظر کی عکاسی کی وجہ سے مداحوں کی جانب سے بے پناہ پذیرائی ملی تھی۔
لیکن اب اس فلم کی کاسٹنگ کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ تاریخی پروجیکٹ ابتدا میں شاہ رخ خان کے لیے نہیں بلکہ کسی اور اداکار کے لیے لکھا گیا تھا۔
فلم کے اداکار اور مصنف امین حاجی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہدایت کار آشوتوش گوواریکر کی فلم ‘لگان’ کی زبردست کامیابی کے بعد اس فلم کی منصوبہ بندی عامر خان کے ساتھ کی جا رہی تھی اور اس وقت اس کا نام ‘دیش’ رکھا گیا تھا۔
عامر خان نہ صرف مرکزی کردار کے لیے اس سے وابستہ تھے بلکہ وہ ‘عامر خان پروڈکشنز’ کے تحت اس کے پروڈیوسر کے طور پر بھی شامل تھے۔
تاہم عامر خان اسکرین پلے پر مزید کام کرنے کے خواہشمند تھے اور اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے آشوتوش گوواریکر کو مطلوبہ وقت نہیں دے پا رہے تھے، جس کے باعث انہوں نے اس پروجیکٹ سے علیحدگی اختیار کر لیا، عامر کے بعد ریتک روشن اور آر مادھون کے ناموں پر بھی غور کیا گیا اور مادھون نے اس کے لیے آڈیشن بھی دیا۔
اسی دوران شاہ رخ خان نے فلم ‘لگان’ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جس کے لیے فلم سٹی کے ایڈلیبس میں ایک خصوصی اسکریننگ رکھی گئی۔ امین حاجی نے بتایا کہ وہ اس اسکریننگ کے دوران شاہ رخ خان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ فلم کے اختتام پر شاہ رخ اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے فوراً آشوتوش گوواریکر کے اگلے پروجیکٹ میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔
شاہ رخ خان نے آشوتوش سے کہا کہ ان کے والد آزادی کی جدوجہد میں شامل تھے، اس لیے وہ ‘دیش’ میں موہن بھارگو کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح یہ کردار بالآخر شاہ رخ خان کی جھولی میں آ گیا۔
امین حاجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شاہ رخ خان کا ماننا ہے کہ جب بھی عامر خان کسی فلم سے منسلک ہوں اور بعد میں الگ ہو جائیں، تو وہ اس فلم کو بغیر اسکرپٹ پڑھے سائن کر لیں گے، کیونکہ انہیں پختہ یقین ہوتا ہے کہ اگر عامر اس کا حصہ بنے تھے تو اس کی کہانی لازماً بہترین ہوگی۔



