این آئی سی ایچ کے نیونیٹل آئی سی یو میں آتشزدگی کے سنگین خطرات کا انکشاف

0
8

کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) کے نیونیٹل آئی سی یو میں آتشزدگی کے سنگین خطرات کا انکشاف ہوا ہے، فائر سیفٹی آڈٹ میں کھلی بجلی کی وائرنگ، آکسیجن لیکیج کی نشان دہی کی گئی ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ میں این آئی سی ایچ کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی منزلیں سب سے زیادہ تشویش ناک قرار دے دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیونیٹل آئی سی یو میں بجلی اور آکسیجن پوائنٹس انتہائی قریب نصب ہونے، آکسیجن لائن میں لیکیج، پائپ کے جوڑوں پر ٹیپ لگی ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق این آئی سی ایچ میں فائر الارم سسٹم غیر فعال ہے، بیش تر اسموک ڈیٹیکٹرز بھی غیر فعال پائے گئے، اسپتال میں فائر ایکسٹنگوشرز کی تعداد بھی ناکافی ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ کے مطابق این آئی سی ایچ اسٹاف کو فائر ایمرجنسی کی تربیت نہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، فائر ڈرلز بھی نہ کرائے جانے کا انکشاف ہوا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی ایگزٹس سامان اور کچرے سے رکاوٹ کا شکار ہے، پاور روم بھی عوام کے لیے آسانی سے قابل رسائی نہیں ہے، پاور روم میں اسموک ڈیٹیکٹر اور مناسب فائر فائٹنگ انتظامات موجود نہیں ہے۔

نیونیٹل آئی سی یو کا مکینیکل وینٹی لیشن سسٹم غیر فعال نکلا، پرانے اے سی یونٹس کی کھلی اور عارضی وائرنگ بھی خطرناک قرار دی گئی ہے، 30 جون کو این آئی سی ایچ کے آئی سی یو میں آگ لگنے کا انکشاف ہوا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوری 2020 میں انکیوبیٹر میں آگ سے نومولود جاں بحق ہوا تھا۔

رپورٹ میں این آئی سی ایچ کی صورت حال پی آئی ایم ایس اسلام آباد کے واقعے سے مماثل قرار دیا گیا ہے، فائر سیفٹی آڈٹ میں فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش اور بجلی، آکسیجن اور وینٹی لیشن نظام فوری محفوظ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں