بنگلہ دیش کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے چین سے جدید ترین لڑاکا طیاروں کی خریداری کے فیصلے نے خطے میں ایک نئی بحث چھڑا دی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ڈھاکہ کا یہ قدم محض ایک عسکری خریداری نہیں بلکہ اس کے اسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
بنگلہ دیش اپنی مسلح افواج بالخصوص فضائیہ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے طویل عرصے سے دفاعی تنوع پر کام کر رہا ہے۔ روایتی طور پر مختلف ممالک کے عسکری سازوسامان پر انحصار کرنے کے بعد، اب چین کے ساتھ جدید لڑاکا طیاروں کے سودے کا بنیادی مقصد ملکی فضائی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا اور پرانے ہوتے ہوئے بیڑے کو جدید ترین طیاروں سے تبدیل کرنا ہے۔ چین کے ساتھ اس دفاعی تعاون سے نہ صرف بنگلہ دیشی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا کے خطے میں طاقت کے توازن اور دفاعی رجحانات پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑیں گے۔
اس پیش رفت سے خطے میں دفاعی هم آہنگی اور عسکری منڈی کے رجحانات تبدیل ہونے کا امکان ہے، جہاں خریدار ممالک اب جدید ٹیکنالوجی، سستے متبادل اور فوری ترسیل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اس دفاعی معاہدے کو خطے میں بدلتے ہوئے اسٹریٹجک اتحادوں اور چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی اثر و رسوخ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔



