کراچی کا خوبصورت ماضی : زیر زمین بسی چھوٹی سی دنیا

0
8

کراچی : شہر قائد کی مصروف ترین شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے بنائی گئی پرانی زیر زمین گزرگاہیں (سب ویز) خستہ حالی کا شکار ہیں اور عدم توجہی کے باعث یہ عہدِ رفتہ کی یادگار بن چکی ہیں۔

یہ زیرِزمین گزرگاہیں ماضی کی شاندار یادگار ہیں جو صدر، لیاقت آباد اور ناظم آباد کی زیرِ زمین گزرگاہوں میں کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں اور شہری ٹریفک کے دباؤ سے بچنے کیلئے ان کا استعمال بھی کرتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں کراچی کے مختلف اہم مقامات اور شاہراہوں پر عوام کے سڑک عبور کرنے کے لیے زیر زمین راستے بنائے گئے تھے۔

حالیہ دور میں ان زیر زمین راستوں کی مناسب دیکھ بھال، روشنی کا انتظام نہ ہونے اور صفائی ستھرائی کی کمی کی وجہ سے اب شہری ان کا استعمال نہیں کرتے، یہ گزرگاہیں اب ویران پڑی ہیں اور بعض مقامات پر حفاظتی مسائل کا باعث بھی بنتی ہیں۔

زیر نظر رپورٹ میں شہر قائد کی پرانی زیر زمین گزرگاہوں کی موجودہ حالت زار اور ان سے متعلق تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب کراچی کا انفرااسٹرکچر پورے ملک میں اپنی مثال آپ تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ شہر کا بنیادی ڈھانچہ بتدریج زوال کا شکار ہوتا گیا۔

کراچی میں کئی دہائیاں قبل شہریوں کو ٹریفک سے محفوظ رکھنے اور آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تعمیر کی گئی زیرِ زمین گزرگاہیں آج بھی اس دور کی یاد دلاتی ہیں۔

شہر میں صدر کے ریگل چوک، لیاقت آباد سپرمارکیٹ اور ناظم آباد میں رضویہ سوسائٹی کے قریب قائم زیرِ زمین گزرگاہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔

صدر میں ریگل چوک کے قریب واقع زیرِ زمین گزرگاہ کشادہ ہونے کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد اسے استعمال نہیں کرتی اور ٹریفک کے درمیان سے سڑک عبور کرنے کو ترجیح دیتی ہے، تاہم گزرگاہ کے اندر کاروباری سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

لیاقت آباد سپرمارکیٹ کے قریب واقع زیرِ زمین گزرگاہ کراچی کی بڑی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کپڑوں اور جوتوں سمیت مختلف اشیا کی دکانیں قائم ہیں۔ شہری سڑک عبور کرنے کے لیے اس راستے کو نسبتاً محفوظ اور آسان سمجھتے ہیں۔

ناظم آباد میں رضویہ سوسائٹی کے قریب قائم زیرِ زمین گزرگاہ بھی کشادہ اور ہوادار ہے، جہاں مختلف دکانیں موجود ہیں اور شہری اسے سڑک عبور کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ زیرِزمین گزرگاہوں کے قیام کا بنیادی مقصد ٹریفک کے ہجوم اور حادثات سے محفوظ رکھنا تھا، تاہم شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے باعث مزید مقامات پر ایسی گزرگاہوں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ خصوصاً تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور مصروف شاہراہوں کے قریب نئی زیرِ زمین یا محفوظ پیدل گزرگاہیں تعمیر کی جائیں تو شہریوں کو سڑک عبور کرنے میں درپیش مشکلات کم کی جاسکتی ہیں اور ٹریفک حادثات سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں