نوسٹراڈیمس کی وفات کو تقریباً آج ساڑھے چار سو سال گزر چکے ہیں، تاہم ان کی مبہم پیش گوئیوں پر بحث کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
نوسٹراڈیمس (Nostradamus) کی پیش گوئیوں کی حقیقت ابہام، شاعری اور واقعات کے بعد کی جانے والی تشریح پر مبنی ہے، جن میں کوئی سائنسی یا یقینی صداقت نہیں ہے۔
نوسٹراڈیمس نے اپنی کتاب ’لے پروفیٹی‘ میں پیش گوئیاں صوفیانہ اور مبہم چار مصرعوں کی شکل میں لکھی تھیں، جن کے معنی واضح نہیں ہوتے۔
فرانسیسی نجومی نوسٹراڈیمس نے تقریباً 900 مختصر نظموں پر مشتمل مجموعہ تحریر کیا، جن کی زبان میں فرانسیسی، لاطینی اور یونانی الفاظ کا امتزاج پایا جاتا ہے۔
مبہم اور گول مول اندازِ میں تحریر کے باعث مختلف ادوار میں لوگوں نے ان اشعار سے اپنے دور کے واقعات کی مماثلت تلاش کی، نپولین، ہٹلر اور نائن الیون کے واقعات کو نوسٹراڈیمس کی پیش گوئیوں سے جوڑنے کی مثالیں خاص طور پر مشہور ہیں۔
ان میں ایک معروف مثال لفظ ’ہسٹر‘ کی ہے، جسے بعض افراد نے ہٹلر کے نام سے جوڑا، تاہم ’ہسٹر‘ دراصل ڈینیوب کے قدیم رومی نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس کا ہٹلر سے کوئی تعلق نہیں۔
ماہرین کے مطابق نوسٹراڈیمس کی تحریروں کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کسی پیش گوئی کو واقعہ رونما ہونے سے پہلے واضح طور پر سمجھ کر اس کی پیشگی اطلاع دی گئی؟
اب تک ایسی کوئی مستند مثال سامنے نہیں آئی جس میں کسی شخص نے نوسٹراڈیمس کی تحریر کی بنیاد پر کسی مخصوص واقعے کی پہلے سے درست پیش گوئی کی ہو۔
اس لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ نوسٹراڈیمس کی پیش گوئیوں سے تاریخی واقعات کی مماثلت زیادہ تر واقعات کے بعد ان کی تشریح کرنے کا نتیجہ ہے، اس لیے یہ مستقبل کے واقعات کی قابلِ اعتماد پیش گوئی ہرگز نہیں ہے۔



