پشاور (گلوبل پاکستان نیوز ڈیسک): خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران سیاسی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیانات کے خلاف صوبائی اسمبلی میں ایک سخت قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس قرارداد میں وفاقی شخصیات کے بیانات کو صوبے اور ملکی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عہدی داروں کی طرف سے اس قسم کے بیانات دینے کا مقصد سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وفاقی حکومت کو اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کا نوٹس لینا چاہیے اور عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے اور وفاق اور صوبے کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



