تنہائی اور نفسانی خواہشات

0
3

انسانی نفسیات کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی صرف چار دیواری میں اکیلے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کے اندر کا وہ خالی پن ہے جوتنہائی اور نفسانی خواہشات انسان کے وجود میں دو ایسی گہری اور خاموش طاقتیں ہیں جن کا باہمی تعلق بہت باریک اور بعض اوقات نہایت پیچیدہ ہوتا ہے۔ انسان کو مسلسل اندر سے کریدتا رہتا ہے۔ جب یہ خلوت حد سے بڑھنے لگتی ہے یا انسان خود کو جذباتی اور فکری طور پر کٹا ہوا محسوس کرتا ہے، تو دل اور دماغ فطری طور پر اس خالی پن کو بھرنے کے لیے کسی سہارے کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں نفسانی خواہشات نہایت خاموشی سے، کسی ہمدرد یا پناہ گاہ کا روپ دھار کر انسان کے وجود میں جگہ بنانے لگتی ہیں۔ نفس انسان کو یہ مغالطہ دیتا ہے کہ شاید ان خواہشات کی تسکین سے اندر کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا یا دل کو وہ سرور اور سکون مل جائے گا جس کی اسے تلاش ہے۔

انسان دراصل ایک سماجی، جذباتی اور روحانی وجود ہے جسے تسکین کے لیے محبت، تعلق، فکری ہم آہنگی اور با مقصد زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب کسی وجہ سے یہ ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں اور انسان تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے، تو اس کا ذہن شدید تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس تناؤ سے فرار حاصل کرنے کے لیے نفس ایک سستا اور فوری حل پیش کرتا ہے، اور وہ ہے نفسانی خواہشات کی لذت میں گم ہو جانا۔ چاہے وہ کسی صورت میں بھی ہو، یہ خواہشات انسان کو عارضی طور پر اپنے وجود سے بے خبر کر دیتی ہیں اور وہ لمحاتی طور پر اپنی تنہائی اور دکھ کو بھول جاتا ہے۔ لیکن یہ سکون محض ایک سراب ہوتا ہے، کیوں کہ خواہش کی تکمیل کے ساتھ ہی جب وہ لمحاتی لذت ختم ہوتی ہے، تو تنہائی پہلے سے زیادہ گہری، تلخ اور خوفناک شکل اختیار کر کے واپس لوٹتی ہے، جس کے ساتھ ساتھ ندامت اور خود ملامتی کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔

نفس کا یہ کھیل نہایت دلچسپ ہے کہ وہ تنہائی کو ایک دباؤ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ کتنا اکیلا، بے بس اور محروم ہے۔ جب انسان اس احساسِ محرومی کو بار بار محسوس کرتا ہے، تو اس کی قوتِ ارادی کمزور پڑنے لگتی ہے اور وہ نفسانی خواہشات کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ جب میری جذباتی یا روحانی دنیا اتنی ویران ہے، تو کم از کم اس عارضی لذت سے ہی کیوں نہ دل کو بہلا لیا جائے۔ یوں انسان ایک ایسے دائمی چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں تنہائی اسے خواہشات کی طرف دھکیلتی ہے اور خواہشات کی غیر متوازن تسکین کے بعد پیدا ہونے والا گناہ یا ندامت کا احساس اسے معاشرے اور اپنے وجود سے مزید دور کر کے اور بھی زیادہ اکیلا کر دیتا ہے۔

تنہائی سے پیدا ہونے والی نفسانی خواہشات کا مقابلہ محض زبردستی یا خود کو کوسنے سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جب تک اندرونی خلا موجود رہے گا، نفس کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لے گا۔ اس مسئلے کا حقیقی حل یہ ہے کہ انسان اپنی تنہائی کے نوعیت کو سمجھے اور اسے ایک تعمیری قوت میں بدلے۔ انسان جب اکیلا ہوتا ہے تو درحقیقت یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے خالق سے سب سے زیادہ قریب ہو سکتا ہے اور اپنے اندرونی وجود کی اصلاح کر سکتا ہے۔ اگر تنہائی کو خود شناسی، مطالعے، تخلیقی کاموں، اور سچی روحانیت کا ذریعہ بنا لیا جائے، تو وہی تنہائی جو پہلے نفسانی خواہشات کا بوجھ بن کر آتی تھی، انسان کے لیے ایک عظیم ترین نعمت اور اطمینانِ قلب کا باعث بن جاتی ہے۔ انسان کو یہ ادرک حاصل کرنا ہوتا ہے کہ نفسانی خواہشات صرف جسمانی پیاس نہیں بلکہ روح کی اس پکار کا غلط نعم البدل ہیں جو دراصل محبت، معرفت اور ایک حقیقی مقصد کی تلاش میں ہوتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں