ایک بادشاہ کا مٹاپا بڑھتا جا رہا تھا۔ کسی علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایک طبیب نے علاج کا بیڑا اٹھایا۔

0
12

طبیب نے بادشاہ سے کہا کہ علاج سے پہلے میں آپ کا زائچہ نکال لوں۔ مجھے ایک دن چاہیے، کل حاضر ہوتا ہوں۔ بادشاہ کی اجازت ملنے پر وہ دربار سے چلا گیا۔ دوسرے روز غمگین صورت بنا کر بادشاہ کے پاس پہنچا۔ بادشاہ نے زائچہ کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا کہ حضور زائچے نے بتایا کہ آپ کی زندگی کے صرف چالیس روز باقی رہ گئے ہیں۔ پھر علاج سے کیا فائدہ۔ موٹے رہے تو کیا اور دبلے ہو گئے تو کیا۔ بادشاہ کے دل کو بڑا دھچکا لگا۔ اس کا جی ہر شے سے اچاٹ ہوگیا۔ اس نے امور سلطنت چھوڑ کر مصلّٰی سنبھال لیا اور خور و نوش تک بقدرِ قوت لایموت رہ گئی۔ چالیسویں روز کا انتظار تھا، لیکن جب پیش گوئی کے بعد کی زندگی کا اکتالیسواں سورج بھی دیکھ لیا اور نہ تو موت آئی اور نہ ہی موت کے کوئی بظاہر آثار دکھائی دیے تو طبیب کو طلب کیا اور بپھرے ہوئے انداز میں اس سے باز پرس کی۔

طبیب نے کمال جرأت کا مظاہرہ کیا اور مسکراتے ہوئے بادشاہ کو دیکھنے لگا۔ بادشاہ اس طرح اس کے دیکھنے پر مزید بگڑا تو جھٹ سے اپنے ہاتھوں میں چھپایا ہوا ایک آئینہ بادشاہ کے سامنے کر دیا اور عرض کی کہ حضور آپ یہی تو چاہتے تھے کہ دبلے ہو جائیں، دیکھ لیجیے آپ کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ ایک تو آپ کا وزن گھٹ گیا ہے دوسرا اتنے دن مسلسل نماز اور دوسری عبادات کا ثواب نفع میں رہا۔ اگر میں دواؤں سے علاج کرتا تو شاید اس طرح وزن گھٹانے میں آپ کو بڑی دشواری ہوتی اور اگر آپ کا وزن کم ہو بھی جاتا تو اس ثواب سے محروم رہ جاتے۔ عالی جاہ، درگزر کیجیے اور مجھے انعام سے نوازیے۔ یہ سن کر بادشاہ کی خوشی کی کیفیت ہی جداگانہ تھی۔ اس نے دربار میں جشن کا اعلان کیا اور طبیب کو بھاری انعام سے نوازا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں