سائنس دانوں نے سائبورگ کاکروچ تیار کر لیے، فلمی تصور حقیقت بن گیا

0
11

سڈنی: آسٹریلوی سائنس دانوں نے قدرتی آفات میں پھنسے افراد تک دوائیں پہنچانے کے لیے سائبورگ کاکروچ تیار کر لیے ہیں، خصوصی کیمروں اور انجیکشنز سے لیس ان لال بیگوں کو ’پیرا بورگز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

دیوہیکل لال بیگوں کا ایک جھنڈ شاید ڈراؤنے خوابوں کا منظر معلوم ہو، لیکن آسٹریلوی محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان کیڑوں کو سرچ اینڈ ریسکیو کی ٹیمیں قدرتی آفات کے بعد پھنسے ہوئے لوگوں تک زندگی بچانے والی ادویات پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

یہ تحقیق ایڈوانسڈ سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق کوئنزلینڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنس دانوں نے طبی امداد فراہم کرنے والے سائبورگ لال بیگ تیار کیے ہیں، جنھیں ’’پیرا بورگز‘‘ (paraborgs) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ لال بیگ انتہائی چھوٹے انجیکشن آلات اور کیمروں سے لیس ہیں۔

سائبورگ کاکروچ سائبورگ لال بیگ
سائبورگ کاکروچ

محققین کو امید ہے کہ امدادی کارکنوں کے پہنچنے سے پہلے یہ کیڑے زلزلوں اور عمارتوں کے منہدم ہونے کے واقعات میں ملبے سے بھرے تنگ مقامات میں پھنسے متاثرین کو بنیادی طبی امداد فراہم کر کے انھیں زندہ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان لال بیگوں کے اعصابی نظام میں الیکٹروڈز نصب کر کے دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق کے شریک مصنف اور پی ایچ ڈی امیدوار ہائی نھان لی (Hai Nhan Le) نے کہا ’’بہت سے لوگوں کو شاید ایک دیوہیکل کاکروچ کو اپنی طرف تیزی سے آتے دیکھنا پسند نہ ہو، لیکن اگر آپ ملبے میں پھنسے ہوں یا کسی غار میں محصور ہوں اور مدد کی ضرورت ہو تو یہ زندگی اور موت کے درمیان واقعی فرق پیدا کر سکتا ہے۔‘‘

تحقیقی ٹیموں نے شمالی کوئنزلینڈ کے دیوہیکل بل کھودنے والے کاکروچوں کو چھوٹے بیگ پہنائے، جن میں سرنج کے سلنڈر اور کیمرے موجود تھے۔ یہ دنیا میں کاکروچ کی سب سے بھاری نسل ہے اور اس کی لمبائی 8.5 سینٹی میٹر (3.3 انچ) تک ہوتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ یہ کام سائبورگ کیڑوں پر ہونے والی سابقہ تحقیق سے آگے بڑھا ہے، جس میں اب تک صرف متاثرین کا مقام معلوم کرنے کے لیے ان کیڑوں کے استعمال پر توجہ دی گئی تھی، نہ کہ ان کا علاج کرنے پر۔

لال بیگ کو آپریٹر کیسے کنٹرول کرتے ہیں؟


محققین نے کہا کہ حقیقی کاکروچ اس لیے استعمال کیے گئے کیوں کہ کوئی روبوٹ ان کی پھرتی، سخت جان ہونے کی صلاحیت اور کم توانائی کی ضرورت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کیڑوں کے جسم میں نصب کیے گئے الیکٹروڈز کے ذریعے آپریٹرز ان کے اعصابی نظام کو متحرک کر کے کیڑوں کو مطلوبہ سمت میں لے جا سکتے ہیں۔

تحقیق کے شریک مصنف اور بایوروبوٹکس انجینئر تھانگ وو-ڈوان نے کہا ’’ہم پہلے کاکروچ کو بے ہوش کرتے ہیں اور اسے بے حرکت کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تنصیب کے عمل کے دوران اسے کچھ محسوس نہ ہو۔‘‘

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں