اسلام آباد / ویانا: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی نجی زندگی اور ممکنہ منگنی کے حوالے سے سوشل میڈیا اور مختلف نیوز چینلز پر گردش کرنے والی خبروں نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ حال ہی میں ذرائع ابلاغ پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیئرمین پی پی پی اور صدرِ مملکت کسی اہم خاندانی سلسلے اور منگنی کی بات چیت کے لیے آسٹریلیا یا یورپ کے ملک آسٹریا (ویانا) کے دورے پر موجود ہیں، تاہم اب پارٹی کی طرف سے ان تمام خبروں کی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کا پس منظر: گزشتہ چند روز سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ افواہیں تیزی سے وائرل ہو رہی تھیں کہ بلاول بھٹو زرداری کی شادی یا منگنی کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں ایک بیرونی ملک کے خاندان سے بات چیت کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان دعوؤں میں یہ بھی رنگ دیا گیا کہ اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات کی موجودگی اس نجی دورے کو مزید اہمیت دیتی ہے۔ اس قسم کی خبروں کے سامنے آتے ہی سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام عوام میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور ہر کوئی اس بابت مزید جاننے کے لیے بے چین نظر آ رہا تھا۔
پیپلز پارٹی کی طرف سے تردید اور سخت ردعمل: ان تمام قیاس آرائیوں کے درمیان پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمانوں اور ذمہ دار ذرائع نے سخت تردید جاری کی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تمام خبریں قطعی طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے منافی ہیں۔ ترجمان کا مؤقف ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے اس طرح کی نجی اور بے سرپیر کی خبریں پھیلانے کا مقصد صرف سنسنی پھیلانا اور توجہ حاصل کرنا ہے۔
عوام اور میڈیا کے نام پیغام: سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی شخصیات کی نجی زندگی کے بارے میں اکثر بغیر تصدیق کے افواہیں اڑائی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بغیر کسی مستند ذریعے یا تصدیق کے ایسی خبریں آگے نہ پھیلائیں۔ کسی بھی قسم کی مصدقہ اطلاع کے بغیر اس طرح کی خبریں چلانا غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے، اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔



