چین میں ہمالیائی لینڈ سلائیڈنگ: 23 ممالک کے 261 غیر ملکی لاپتہ، ہلاکتیں بڑھ گئیں

0
9

بیجنگ/تبت: ہمالیائی سرحدی علاقے میں گلیشیئر کے پھٹنے اور شدید مڈ سلائیڈنگ (کیچڑ کے طوفان) کے نتیجے میں تباہی مچ گئی ہے، جہاں چین نے 23 ممالک کے 261 غیر ملکی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

تباہی کا پس منظر اور تفصیلات: حالیہ دنوں میں پیش آنے والے اس خوفناک حادثے کی وجہ گلیشیئر کا تودہ گرنا تھا، جس کے باعث برف، چٹانیں، کیچڑ اور ملبہ دریاؤں کے راستے تیزی سے نیپال کے ساتھ ملحقہ سرحدی گزرگاہ پر آ گرا۔ تبت کے خود مختار علاقے کے حکام کے مطابق اس خونی سانحے میں اب تک تبت کے ضلع گائیرونگ میں مرنے والوں کی تعداد 16 ہو چکی ہے جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ دوسری جانب نیپال میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں حکام نے کم از کم 675 اموات، 2,498 لاپتہ افراد اور 7,514 بچائے جانے والے افراد کی تصدیق کی ہے۔

لاپتہ غیر ملکی شہریوں کی تفصیل: چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ پہلی تفصیلی رپورٹ کے مطابق لاپتہ ہونے والے غیر ملکیوں کا تعلق 23 مختلف ممالک سے ہے، جن میں سب سے زیادہ تعداد نیپالی شہریوں کی ہے۔

  • نیپال: 104 افراد
  • بھارت: 49 افراد
  • لٹویا: 33 افراد
  • امریکہ: 18 افراد
  • برطانیہ: 15 افراد

حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ حکومت نے ان تمام لاپتہ غیر ملکیوں کے سفارتی مشنز (ممالک کے سفارت خانوں) کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اس حادثے کو حالیہ برسوں میں چین اور نیپال کے درمیان سب سے سنگین عبوری سرحدی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔

ریسکیو آپریشن اور ماحولیاتی وجوہات: سائنسدانوں اور چینی حکام نے اس قدرتی آفت کی بنیادی وجہ طویل مدتی گلوبل وارمنگ اور گلیشیئرز کا غیر مستحکم ہونا قرار دیا ہے۔ عینی شاہدین اور سرویلنس فوٹیج کے مطابق یہ کیچڑ کا طوفان محض 6 سے 7 منٹ کے اندر نیپال سے گزر کر گائیرونگ کی سرحدی گزرگاہ تک پہنچ گیا تھا، جس سے لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔

تریشولی دریا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد مقامی پولیس اور ریسکیو ورکرز نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو اونچے مقامات پر منتقل کیا۔ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 2,100 سے زائد ایمرجنسی ورکرز تعینات کر دیے ہیں جبکہ کم از کم 220 ملین یوان (लगभग 32.7 ملین ڈالر) کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چین اور نیپال دونوں ممالک لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرین کی مدد اور مستقبل میں اس قسم کے موسمیاتی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں