سیالکوٹ : غیر قانونی طریقے (ڈنکی) کے ذریعے یورپ جانے کا سفر انتہائی خطرناک تکلیف دہ اور جان لیوا ہوتا ہے، جس میں نوجوانوں کو شدید مالی، جسمانی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بہتر روزگار اور مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طریقے (ڈنکی) سے بیرون ملک جانے والے نوجوان اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر نکلتے ہیں۔
اس تلخ حقیقت کا اندازہ اس ویڈیو سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں ایک ماں اپنے لخت جگر کے لاپتہ ہونے پر اس کے غم میں ہلکان ہوگئی۔
سیالکوٹ کے ایک نوجوان محمد فیصل کو لیبیا سے یورپ کے سفر کے دوران تقریباً 45 روز تک اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہونے کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنا پڑا، جبکہ اس کی والدہ ہر فون کال اور دروازے پر ہونے والی ہر دستک میں بیٹے کی خیریت کی خبر تلاش کرتی رہیں۔
والدین کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بہتر مستقبل کی امید میں ’ڈنکی‘ کے ذریعے یورپ جانے والا فیصل اپنے فیصلے پر قائم رہا اور بالآخر لیبیا پہنچ گیا، جہاں سے اس کا رابطہ خاندان سے منقطع ہوگیا، اس دوران خاندان والے شدید اذیت اور بے یقینی کی کیفیت میں رہے۔
تقریباً 45 روز بعد اچانک فیصل کی کال موصول ہوئی، والدہ نے بتایا کہ طویل انتظار اور خوف کے بعد بیٹے کی آواز سننا ان کے لیے سب سے بڑی خوشخبری تھی۔
فیصل نے بتایا کہ یورپ تک پہنچنے کا سفر کسی صورت آسان نہیں تھا، لیبیا پہنچنے کے بعد اسے انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر سمندر میں فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، تاہم وہ محفوظ رہا، بعد ازاں اسے ایک اور کشتی میں سوار کرایا گیا، جس میں کھانے پینے کا مناسب انتظام موجود نہیں تھا اور اسے مسلسل 6 دن 6 راتیں سمندر میں گزارنا پڑیں، بالآخر کشتی اٹلی پہنچی، جہاں سے وہ آگے سفر کرکے اسپین پہنچ سکا۔
فیصل کا کہنا ہے کہ غیر قانونی راستے سے یورپ پہنچنا اتنا آسان نہیں جتنا ایجنٹ لوگوں کو بتاتے ہیں، اس نے دیگر نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سفر میں کامیابی کے امکانات بہت کم جبکہ جان جانے کا خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق 2025 میں غیر قانونی طریقے (ڈنکی) سے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران 109 پاکستانیوں سمیت 3401 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے۔ اس کے باوجود بہتر زندگی اور معاشی حالات کی امید میں بہت سے افراد آج بھی خطرناک راستوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
فیصل کے بھائی محمد یاسر کی کہانی بھی اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے، یاسر 6 مرتبہ ڈنکی کے ذریعے یورپ جانے کی ناکام کوشش کرچکا ہے۔
اس نے اپنے بھائی کے تجربے اور اس سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کو قریب سے دیکھا اور اب دوسروں کو ایسے راستوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔



