انسان جیسے جیسے ہوش سنبھالتا ہے، اس کے دل میں تمنائیں اور خواہشات بھی جگہ پانے لگتی ہیں اور اس کی آنکھیں خوبصورت خواب بھی بُننا شروع کر دیتی ہیں۔ ان ابتدائی خوابوں میں جہاں نوعمری کی بے ساختہ معصومیت ہوتی ہے، وہیں والدین کی خواہشات اور غیر محسوس دباؤ کے تحت جنم لینے والی حسرتیں بھی آہستہ آہستہ انہی خوابوں کا حصہ بننے لگتی ہیں۔ اکثر والدین جو خود زندگی کی دوڑ میں کسی منزل کو پانے سے محروم رہ جاتے ہیں، وہ اپنی ناکام تمناؤں کی تکمیل اپنے بچوں کے ذریعے چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول لیے وہ اپنی اولاد کے ذہن کو بچپن ہی سے ایک خاص سمت میں دھکیلنا شروع کر دیتے ہیں، اور بچہ جو ابھی اپنی پسند اور حقیقی خواہشات کو ٹھیک طرح سمجھ بھی نہیں پاتا اس کے کاندھوں پر والدین کی حسرتوں کا بوجھ بھی آ پڑتا ہے۔
کچھ وقت گزرتا ہے اور بچہ عملی زندگی کی دوڑ میں قدم رکھتا ہے، تو اسے بتدریج یہ احساس گھیرنے لگتا ہے کہ اس کے اپنے اندر چھپا شعلہ کچھ اور تھا اور جس شمع کو روشن کرنے کی ذمہ داری اسے سونپی گئی، وہ کچھ اور ہے۔ اس دائمی کشمکش میں اکثر لوگ اپنے حقیقی شوق، خداداد صلاحیتوں اور اندروں کی پکار کو قربان کر دیتے ہیں اور ایک ایسی بے رحم دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں جو ان کی اپنی تھی ہی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر جا کر، تمام تر ظاہری کامیابیوں، مرتبوں اور آسائشوں کو حاصل کر لینے کے باوجود بھی دل میں کہیں خلا باقی رہ جاتا ہے۔ اس وقت انسان شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اس نے دنیا کی توقعات کو تو پورا کر دیا، لیکن اپنی تکمیل نہیں کرسکا اور اس کی روح تشنہ رہ گئی ہے۔
ہم اپنی تمام مصروفیات، گھریلو ذمہ داریوں اور بڑھتی ہوئی عمر کو بہانہ بنا کر اپنے دل کی سچی خواہشوں کو خود اپنے ہاتھوں سے خاموش کر دیتے ہیں، حالانکہ کبھی کبھی ہمیں خواب پورے نہ ہونے کا اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم نے انہیں پورا کرنے کی سرے سے کوشش کی ہی نہیں۔ درحقیقت زندگی کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ انسان جب، جہاں اور جس عمر میں چاہے، اپنے اندر کی آواز پر لبیک کہہ سکتا ہے اور واپسی کا ایک نیا سفر شروع کر سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر خواب بالکل اسی شکل اور پیمانے پر ہو جس شکل میں اسے جوانی یا بچپن کی دہلیز پر دیکھا گیا تھا۔ کچھ خواب وقت اور حالات کے ساتھ اپنی صورت بدل لیتے ہیں؛ ایک نامکمل خواب کبھی اچانک ہی اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے، اور تب انسان پر یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اصل خواب کسی متعین مقام تک پہنچنا نہیں، بلکہ اپنے اس مرجھائے ہوئے حصے کو دوبارہ زندہ رکھنا ہے جو برسوں سے دوسروں کی خواہشوں کے بھاری پتھر کے نیچے دبا رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خواب کبھی مرتے نہیں، وہ صرف خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وقت کی گرد اگرچہ ان کی چمک کو عارضی طور پر دھندلا دیتی ہے، لیکن اگر ہمت اور امید کی ایک ننھی سی کرن بھی مل جائے تو وہ دوبارہ جی اٹھتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ سوچ کر زندگی سے دستبردار ہو جاتے ہیں کہ ایک خاص عمر گزر جانے کے بعد نئے خواب دیکھنا یا پرانے راستے پر لوٹنا اور ادھوری مسافت طے کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کچھ نیا سیکھنے، خواہش کی تکمیل یا ذوق کی تسکین کے لیے کوئی عمر یا آخری حد نہیں ہوتی۔ وہ خواب جو بچپن یا جوانی میں حالات کی گرد میں کہیں دب گیا تھا، وہ شغل جسے آپ زندگی کی مصروفیت میں وقت نہ دے سکے، یا وہ منزل جہاں پہنچنے سے آپ کو مجبوریوں نے روکے رکھا، وہ سب آج بھی خاموشی سے آپ کی ایک توجہ کے منتظر ہیں۔
اگر آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا اور قیمتی حصہ صرف دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے میں گزار دیا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کھیل ختم ہو گیا ہے یا اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ آج کا دن اور لمحۂ موجود آپ کا ہے۔ اپنے آپ سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اندر کی اُس آواز کو غور سے سنیں جسے آپ نے عرصے سے نظر انداز کر رکھا ہے۔ اپنے پرانے شوق، پسند اور ادھورے خوابوں کے لیے روزمرہ کی بے رحم مصروفیات میں سے کچھ وقت لازماً نکالیں۔ خواہ آپ کچھ لکھنا پڑھنا چاہتے ہوں، چاہے کوئی نیا ہنر سیکھنا ہو یا بس زندگی کو کچھ دیر اپنے انداز میں جینا ہو۔ اس سفر میں ماضی کے فیصلوں یا والدین سے کوئی گلہ کرنے کے بجائے یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا، وہ اپنی محبت اور اپنی محدود سوچ کے مطابق ہمارے لیے بہتر سمجھ کر ہی کیا۔
اس لیے اگر آج بھی آپ کے دل کے کسی کونے میں کوئی خواہش ہلکی سی دستک دیتی ہے تو اسے ہرگز نظرانداز نہ کیجیے۔ ممکن ہے وہ آپ کے ماضی کی کوئی ادھوری صدا ہو، اور ممکن ہے وہ آپ کے مستقبل کی کسی بہت ہی خوبصورت اور نئی ابتدا کا پیش خیمہ ہو۔ عمر گزرنے سے راستے ختم نہیں ہوتے، صرف طریقے بدل جاتے ہیں، اور بعض اوقات زندگی کی سب سے خوبصورت منزل وہی ہوتی ہے جہاں انسان پہلی بار خود کو، اپنی پسند کو اور اپنے اندر کی آواز کو بغیر کسی خوف کے پوری طرح قبول کر لیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قدرت نے خوابوں کو عمر کے ہندسوں کا قیدی نہیں بنایا، کیونکہ خواب تاریخیں اور سال نہیں دیکھتے، وہ صرف آپ کے دل کی دھڑکن سنتے ہیں۔ اب وقت گزرنے کا ماتم اور بے سود ملال چھوڑ دیجیے، جو گزر گیا، وہ زندگی کا ایک باب تھا، اور جو باقی ہے، وہ مکمل طور پر آپ کے اختیار میں ہے۔ اپنے اندر دفن اس شخص کو دوبارہ آواز دیجیے جو کبھی اپنی مرضی سے جینا چاہتا تھا، کچھ بننا چاہتا تھا، کچھ لکھنا چاہتا تھا، کچھ نیا سیکھنا چاہتا تھا، اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا تھا۔ یاد رکھیے کہ عمر کا بڑھ جانا خوابوں کے لیے موت کا پروانہ نہیں، انہیں پورا کرنے کی ذمہ داری کسی اور کی نہیں صرف آپ کی ہے۔
دنیا نے اگر ماضی میں آپ کے لیے کوئی اور راستہ چنا تھا تو کوئی بات نہیں، اب ایک راستہ آپ خود اپنے ہاتھوں سے چن لیں، کیونکہ زندگی صرف ان اہداف کو حاصل کرنے کا نام نہیں جو دوسروں نے ہمارے لیے مقرر کیے تھے، بلکہ یہ ان انمول رنگوں کو دریافت کرنے کا نام ہے جو قدرت نے ہمارے اندر بھرے ہیں۔ زندگی ختم ہونے تک بہت کچھ باقی رہتا ہے، اور کبھی کبھی انسان کی اصل زندگی واقعی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں اسے لگتا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اگر آج بھی آنکھوں میں کسی خواب کی ہلکی سی روشنی اور امید کی رمق باقی ہے، تو اسے بجھنے نہ دیجیے؛ بس ایک ہمت بھرا قدم اٹھائیے، اپنے اندر کے شخص سے دوبارہ گرم جوشی سے ہاتھ ملائیے، اور اپنے ادھورے خواب کے سامنے کھڑے ہو کر باوقار انداز میں بتا دیجیے کہ ابھی میں زندہ ہوں، اور خواب ابھی باقی ہیں!



