خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ساتھ لگانے کا فیصلہ

0
1

اسلام آباد (10 اکتوبر 2026) : خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ساتھ لگانے سے متعلق حکومت اور پی پی میں اتفاق رائے ہوگیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاق نے خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 232 اور 234 دونوں کے مشترکہ استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے آئین کی شق 234 کے تحت اختیارات گورنر کے پی کو سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، دہشت گردی، بیرونی جارحیت ،بدامنی کے خلاف آرٹیکل 232کے تحت ایمرجنسی نافد ہوگی۔

صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہ چلانے کی بنیاد پر آرٹیکل 234 کا نفاد ہوگا، ذرائع کے مطابق آرٹیکل 234کے تحت صدر وفاقی حکومت کی تجویز پر انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کریں گے۔

یاد رہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے مطابق جنگ اور داخلی انتشار پر صدر مملکت کسی صوبے میں ایمرجنسی کا اعلان کرسکتے ہیں، صدر کے اعلان کے بعد دس روز میں اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

دوران ایمرجنسی پارلیمنٹ کو کسی صوبے یا اس کے کسی حصے پر قانون سازی کا اختیار ہوگا، آرٹیکل 232 کے تحت وفاق کا انتظامی اختیار اس حد تک وسیع ہوجائے گا کہ وہ صوبے کو ہدایات دے سکے کہ صوبائی انتظامی اختیار کس طریقے سے استعمال کیا جائے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وزیر اعظم کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔

اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم بھی موجود تھے،
اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں