اسلام آباد (20 اکتوبر 2026): وزیر اعظم شہباز شریف نے 5 سال کیلیے آٹو پالیسی کی منظوری دے دی، جس میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی آئی ایم ایف کی تجویز مسترد کر دی گئی۔
دستاویز کے مطابق آٹو پالیسی میں 75 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10 فیصد عائد کرنے کی تجویز، گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر اور آٹو سیکٹر کیلیے مقامی پیداوار، برآمدات اور مسابقت بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔
منظور شدہ آٹو پالیسی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی
- آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے کیلیے ٹیرف 31-2030 تک 15 فیصد تک لایا جائے گا
- 2031 تک الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بتدریج کم کیا جائے گا جبکہ 2026 تا 2031 بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھا جائے گا
- رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا
- پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 9 فیصد رکھنے کی تجویز منظور
- نئی پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کیلیے درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کی تجویز منظور
- 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیرف کی تجویز منظور
- الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کرنے کی تجویز منظور
- الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی مدت 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز منظور
- چھوٹی گاڑیوں کو کم آمدنی والے صارفین کیلیے قابل رسائی بنانے پر زور
- ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کی جائے گی
- آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی برآمدات 31-2030 تک 1.2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر
- گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کیلیے لازمی برآمدی اہداف مقرر کرنے کی تجویز منظور
- برآمدات بڑھانے پر کمپنیوں کو برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دینے کی تجویز منظور
- گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات کی تجویز منظور
- برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کرنے کی تجویز منظور
- مسلسل 2 سال برآمدی اہداف پورے نہ ہونے پر مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کیا جائے گا
- آٹو سیکٹر میں مقامی پرزہ جات کی تیاری بڑھانے کیلیے نئے اہداف مقرر
- مقامی پیداوار کے اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کی مراعات واپس لینے کی تجویز منظور
- پالیسی کے تحت 5 سال میں 232 ارب روپے سے زائد آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی وصولی کا تخمینہ
- آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے برآمدی مراعات اور صنعتی ترقی کے پروگرام چلانے کی تجویز
- آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کیلیے فنڈز مختص کرنے کی تجویز
- پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کی تجویز منظور
- آٹو سیکٹر میں تحقیق، سرٹیفکیشن اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کیلیے فنڈنگ کی تجویز
- مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے کی تجویز
- آٹو کمپنیوں کے معاہدوں میں خریداروں کے تحفظ کی شرائط شامل کی جائیں گی
- نئی آٹو پالیسی میں آٹو سیکٹر میں شفافیت کیلیے سال میں 2 مرتبہ آڈٹ کی تجویز
- مقامی پیداوار اور برآمدی مراعات کی ادائیگیوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا
- آٹو سیکٹر میں ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کیلیے نئے اہداف مقرر کرنے کی تجویز
- آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے متعلق قانون دسمبر 2026 تک بنانے کا ہدف ہے



