خطرے کی گھنٹی! میٹا نے اے آئی ایجنٹ میوز کا اہم فیچر معطل کر دیا

0
1

واشنگٹن: میٹا نے پرائیویسی خدشات پر معاون اے آئی ایجنٹ ’میوز‘ میں چیٹ شیئرنگ کا فیچر معطل کر دیا ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے پرائیویسی خدشات پر اپنے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معاون ایجنٹ میوز (Muse) میں گفتگو شیئر کرنے کا فیچر معطل کر دیا۔

سائبر سیکیورٹی فرم کلاروک (Claroc) کے محققین نے انکشاف کیا تھا کہ میوز میں شیئر کی گئی ہزاروں چیٹس کے لنک عوامی انٹرنیٹ ریکارڈز میں آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں، جس سے حساس ذاتی اور کاروباری معلومات افشا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، اس انکشاف کے بعد میٹا نے فیچر معطل کرنے کا قدم اٹھایا۔

سائبر سیکیورٹی فرم کلاروک نے غیر فعال ڈی این ایس ریکارڈز کے ذریعے 6,800 سے زائد شیئر شدہ لنکس کی نشان دہی کی۔ یہ ریکارڈز ڈومین ناموں سے متعلق تلاش کی سرگرمیوں کو محفوظ کرتے ہیں اور ان کی مدد سے ویب ایڈریسز کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق جھوٹ، میٹا کو اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ

محققین نے ان لنکس کے ذریعے کئی سو چیٹس تک رسائی حاصل کی، ان میں کمپنیوں کی آمدنی سے متعلق جائزے، قرض کی درخواستیں، بینک فراڈ سے متعلق انتباہات جن میں اکاؤنٹس کی جزوی تفصیلات موجود تھیں، اور ملازمت کے انٹرویوز سے متعلق خفیہ نوٹس جیسی بعض حساس معلومات بھی شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ خامی میوز کے یو آر ایل ڈیزائن میں موجود تھی، جس میں گفتگو کے عنوانات اور اتفاقی طور پر تیار کیے گئے شناختی کوڈ شامل ہوتے تھے۔

جب ان لنکس تک رسائی حاصل کی جاتی تو وہ عوامی ڈیٹا بیسز میں ریکارڈ ہو سکتے تھے، جس سے دوسرے افراد بھی انھیں تلاش کر سکتے تھے، چاہے انھیں یہ لنکس براہِ راست بھیجے نہ گئے ہوں۔ ان لنکس کے ذریعے متعلقہ گفتگوؤں کو اکاؤنٹ میں سائن اِن کیے بغیر بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

اس تازہ واقعے سے ان خدشات کو مزید تقویت مل گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز میں ڈیٹا کی پرائیویسی محفوظ نہیں ہے، خصوصاً ایسی گفتگوؤں کو شیئر کرنے سے خطرہ لاحق ہو جاتا ہے جن میں خفیہ، ذاتی یا کاروباری معلومات موجود ہوں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں