کاروباری برادری ایگزم بینک اسکیم پر خوش

0
3

وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری کی مشاورت سے برآمدی شعبے کے مسائل کا عملی اور پائیدار حل چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پاکستان کی برآمدات بڑھانے، صنعتی مسابقت بہتر بنانے اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی جب کہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملک کے مختلف برآمدی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری نمائندوں نے آن لائن اور بالمشافہ شرکت کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں تنوع، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے فروغ اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حکومت کی ترجیحات ہیں، برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور ٹیکسوں سے صنعتی مسابقت متاثر ہو رہی ہے تاہم حکومت کاروباری برادری کی مشاورت سے برآمدی شعبے کے مسائل کا عملی اور پائیدار حل چاہتی ہے۔

اجلاس میں کاروباری برادری کی جانب سے برآمد کنندگان کے لیے ایگزم بینک کی اسکیم کو بھرپور سراہا گیا۔ کاروباری نمائندگان نے کہا کہ ایگزم بینک کی اسکیم برآمدی فنانسنگ میں بہتری اور عالمی منڈیوں تک کاروباری رسائی بڑھانے کے لیے مثبت اقدام ہے۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے مختلف برآمدی شعبوں کے نمائندوں کو اپنے مسائل پیش کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ برآمد کنندگان کے مسائل کو تحریری شکل دے کر متعلقہ اداروں سے جواب اور قابلِ عمل سفارشات حاصل کی جائیں گی۔

اجلاس میں بجلی و گیس کی قیمتوں، کیپٹو پاور گیس لیوی، صوبائی انفراسٹرکچر لیویز اور بڑھتی پیداواری لاگت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جس پر پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کی جانب سے گیس لیوی کے طریقہ کار اور متعلقہ امور پر وضاحت پیش کی گئی۔

برآمد کنندگان کی جانب سے بین الاقوامی شپنگ میں تاخیر، بندرگاہوں کی سہولتوں اور بینکاری ضوابط سے متعلق مسائل اٹھائے گئے۔ عالمی شپنگ میں رکاوٹوں کے پیش نظر برآمدی ادائیگیوں کی مدت میں لچک پیدا کرنے کی تجویز دی گئی۔

اجلاس میں ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی، ڈیجیٹل انوائسنگ اور برآمد کنندگان کو درپیش مالی مشکلات پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ ایف بی آر حکام کی جانب سے ٹیکس ریفنڈز کے نظام میں بہتری اور ڈیجیٹل انوائسنگ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں