(30 اکتوبر 2026): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ہم محتاط انداز میں پُرامید ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک ماہ میں دو بار تہران (ایران) جانا مثبت پیشرفت کی علامت ہے، اگر مثبت پیشرفت نہ ہوتی تو وہ دو بار وہاں نہیں جاتے۔
ترجمان پاک افواج نے کہا کہ امریکا ایران ثالثی میں کام بگاڑنے والے اور بلاجواز تنقید کرنے والے طاقتور عناصر سرگرم ہیں، یہ وہ طاقتور عناصر ہیں جو سمجھتے ہیں کہ جاری تنازع اور جنگ ان کے مفاد میں ہے۔
ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت ممکن
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے، معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں ہیں، علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھنے والے ممالک کو خوش آمدید کہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اگر علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہے تو وہ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، کسی نئے ملک کی معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی سیاسی قیادت کرے گی۔
سعودی عرب میں مزید فوجیوں کی تعیناتی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کا انحصار صورتحال اور سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا، مزید فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ پاکستان اور سعودی عرب کی سیاسی قیادت کرے گی، پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلیے پُرعزم ہے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا دفاع پاکستان کے عزم کا حصہ ہے۔
یمن کا اندرونی تنازع
ترجمان پاک افواج نے کہا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے، یمن کا تنازع یمن کے اندرونی فریقوں کے درمیان ہے۔
کے پی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کرنے کا اعلان
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کیے جائیں گے، دہشتگردی کے خلاف ہماری کارروائیوں کی بنیاد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں۔



