پاکستان میں مہنگائی کی شرح دو ماہ بعد دوبارہ سنگل ڈیجٹ پر آگئی ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ ماہ 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
جولائی سے اکتوبر تک مہنگائی کی اوسط شرح 10.05 فیصد رہی جبکہ اسی ماہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 9.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 9.5 فیصد رہی۔
ایک ماہمیں پیاز کی قیمت میں 19.38 فیصد اضافہ ہوا، دال چنا 19.17 فیصد اور گندم 9 فیصد مہنگی ہوئی، آٹے کی قیمت میں 7.54 فیصد اور سبزیوں میں 6.55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انڈے اور بیسن بالتریتب 5.72، 5.54 فیصد مہنگا ہوگیا، موٹر فیول کی قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران تین فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ سے ٹرانسپورٹ کے کرائے سالانہ بنیاد پر 28.61 فیصد بڑھ گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم 8 فیصد اور صحت کی سہولیات 8.09 فیصد مہنگی ہوگئیں، ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی 11 فیصد تک بڑھ گئیں۔
کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں سالانہ 9.19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بجلی کے چارجز 3.31 فیصد تک کم ہوگئے، ٹماٹر، آلو، چینی، دال مونگ اور چاول کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔



