سپریم کورٹ کا خواتین کے حقوق پر تاریخی فیصلہ

0
8

اسلام آباد: سپریم کورٹ کا خواتین کے حقوق پر تاریخی فیصلہ آگیا ہے۔اے آر وائی نیوز کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کا تحریر کردہ 4 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت کا خلع کا حق استعمال کرنا آئینی حق اور اس پر تشدد آئین پر حملہ ہے، خلع مانگنے والی عورت پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ قانون پوری سختی سے نمٹے گا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 9، 14 اور 25 عورت کو تحفظ اور مساوی حقوق کی کامل ضمانت دیتا ہے،  قانونی حق مانگنے پر عورت کا قتل کرنا قانون کے ساتھ کھلی بغاوت اور سفاکی ہے، ایسے سرد مہری اور منصوبہ بند قتل میں مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ گھریلو حدود کے اندر ہونے والے جرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ 3 رکنی بینچ نے سابقہ اہلیہ کو قتل کرنے والے مجرم وسیم عباس کی جیل پٹیشن خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

11 اکتوبر 2020 کو ملزم وسیم عباس نے سابقہ بیوی شہناز بی بی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، خاتون نے فیملی کورٹ سے خلع کی قانونی ڈگری حاصل کی تھی جس کے محض 48 گھنٹے بعد مسلح ملزم گھر میں داخل ہوا اور طلاق کی رنجش پر ملزم نے پیٹ، ہاتھ اور کمر پر 6 گولیاں مار کر خاتون کی جان لی۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے بھی ملزم کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں