انڈے خوفناک وائرس کی وجہ : تحقیق میں ہوشربا انکشاف

0
5

لندن : برطانیہ میں مرغی کے انڈے سالمونیلا کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ قرار دیے گئے ہیں اب تک اس وائرس سے ایک شخص ہلاک اور سیکڑوں افراد کے بیمار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل امریکا میں بند گوبھی اور ہری مرچ کے بعد شہریوں کو گائے کا گوشت خریدنے سے گریز کرنے کی ہدایت جاری گئی تھی۔

سالمونیلا وائرس کیا ہے؟

سالمونیلا بیکٹیریا کی ایک قسم ہے جو کھانے سے پیدا ہونے والی بیماری کا سبب بن سکتی ہے، جسے عام طور پر سالمونیلوسس کہا جاتا ہے۔

یہ انفیکشن اپنے پھیلاؤ اور ممکنہ شدت کی وجہ سے اہم ہے، جس سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔

سالمونیلا انفیکشن کی عام علامات میں پیٹ میں مروڑ، اسہال، قے اور بخار شامل ہیں، جو عموماً جراثیم سے متاثر ہونے کے 12 سے 72 گھنٹے کے اندر ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اس کی روک تھام اور طبی انتظام کے لیے سالمونیلا کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر اس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ صحت کی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

درآمد شدہ مرغی کے انڈے

اس حوالے سے برطانوی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وبا کا تعلق برطانیہ سے باہر سے درآمد کیے گئے مرغی کے انڈوں سے ہوسکتا ہے۔

علاوہ ازیں برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے وبا کے اصل سبب اور ماخذ کی تحقیقات شروع کردی ہیں، حکام کے مطابق انڈوں سے تیار کردہ غذاؤں کا استعمال اب تک انفیکشن کے پھیلاؤ کا سب سے مضبوط ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔

انڈوں میں سالمونیلا کی وجہ

انڈوں میں سالمونیلا کی وجہ اندرونی آلودگی بیکٹیریا مرغی کے اندر انڈے کی زردی یا سفیدی میں بننے کے دوران ہی شامل ہو سکتا ہے۔

مرغی کے فضلے سے انڈے کا چھلکا آلودہ ہو سکتا ہے، انڈوں کو صحیح درجہ حرارت پر نہ رکھنے سے بیکٹیریا تیزی سے پھیلتا ہے۔

یو کے ایچ ایس اے کی ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ ادارہ فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی اور دیگر صحت عامہ کے اداروں کے ساتھ مل کر سالمونیلا کے پھیلاؤ کی تحقیقات کر رہا ہے، جس کا ممکنہ تعلق بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے انڈوں سے ہے۔

برطانوی حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈوں کو اچھی طرح پکایا جائے اور کھانا تیار کرنے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئے جائیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں