جشنِ آزادی اور پاکستان کا ماحولیاتی مستقبل

0
7

ودہ اگست کی صبح پاکستان کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے، فضا میں قومی ترانہ گونجتا ہے اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن آج جشن کے ساتھ ایک سنجیدہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جس آزاد سرزمین کو حاصل کیا گیا، کیا اس کی ہوا سانس لینے کے قابل، اس کا پانی پینے کے لیے محفوظ اور اس کے شہر و دیہات آنے والی موسمی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ودہ اگست کی صبح پاکستان کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے، فضا میں قومی ترانہ گونجتا ہے اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن آج جشن کے ساتھ ایک سنجیدہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جس آزاد سرزمین کو حاصل کیا گیا، کیا اس کی ہوا سانس لینے کے قابل، اس کا پانی پینے کے لیے محفوظ اور اس کے شہر و دیہات آنے والی موسمی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ودہ اگست کی صبح پاکستان کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے، فضا میں قومی ترانہ گونجتا ہے اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن آج جشن کے ساتھ ایک سنجیدہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ جس آزاد سرزمین کو حاصل کیا گیا، کیا اس کی ہوا سانس لینے کے قابل، اس کا پانی پینے کے لیے محفوظ اور اس کے شہر و دیہات آنے والی موسمی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ہر شہری کو صاف ہوا، محفوظ پانی، موسمی خطرات سے مضبوط گھر اور باعزت روزگار میسر ہوتو قومی پرچم کا سفید اور سبز رنگ شمولیت اور زندگی کی علامت بھی بن سکتا ہے

آزادی صرف سرحد، پرچم اور اقتدارِ اعلیٰ کا نام نہیں، یہ اپنے قدرتی وسائل، شہریوں کی صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی حفاظت کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کرنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف عالمی حدت نہیں بلکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، کمزور شہری منصوبہ بندی، پانی کا غیر مؤثر استعمال، فضائی و آبی آلودگی اور قدرتی حفاظتی نظاموں کی تنزلی بھی ہے۔ 2022 کے سیلاب میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 1,739 جانیں ضائع ہوئیں اور 22 لاکھ سے زیادہ مکانات تباہ یا نقصان زدہ ہوئے۔ یہ اعداد محض ایک آفت کا ریکارڈ نہیں بلکہ ہمارے ترقیاتی نمونے کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں۔

عالمی بینک کی 2022 کی Pakistan Country Climate & Development Report کے اندازے کے مطابق، اگر موجودہ راستہ تبدیل نہ ہوا تو شدید گرمی، سیلاب، پانی کی قلت، ماحولیاتی تنزل اور فضائی آلودگی کے مشترکہ اثرات 2050 تک پاکستان کی سالانہ قومی پیداوار کو 18 سے 20 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔ یہ کوئی قطعی پیش گوئی نہیں بلکہ موجودہ حالات کے جاری رہنے کی صورت میں ممکنہ معاشی نقصان کا اندازہ ہے۔ یومِ آزادی پر ماضی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اب یہ طے کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم آنے والے پاکستان کو کیسی زمین، کیسا پانی اور کیسی ہوا دے کر جائیں گے۔

گزرا کل: ترقی اور ماحول کا بدلتا رشتہ
پانی اور زرعی معیشت
قیامِ پاکستان کے بعد ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے اور زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے نہری پانی سے کھیتی باڑی کو فروغ دیا گیا۔ گندم، چاول، کپاس اور گنے کی فصلوں نے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن پانی سستا ہونے اور اس کے استعمال کا حساب نہ رکھنے کی وجہ سے زیادہ پانی مانگنے والی فصلیں اگائی جانے لگیں، کھیتوں میں ضرورت سے زیادہ پانی دیا گیا اور زیرِ زمین پانی بھی بے دریغ نکالا گیا۔

دریائی بہاؤ میں موسمی تبدیلی، نہروں میں رساؤ، زمین کی سیم و تھور اور زرعی کیمیکلز کے استعمال نے پانی کی مقدار اور معیار دونوں کو متاثر کیا۔ ماضی میں منصوبہ بندی زیادہ تر پانی کی رسد بڑھانے پر مرکوز رہی، جبکہ پانی کی طلب کے انتظام، علاقے کے مطابق فصلوں کے انتخاب اور مقامی آبی ذخائر کو نسبتاً کم اہمیت دی گئی۔ پاکستان کا زرعی شعبہ آج بھی لاکھوں خاندانوں کے روزگار اور قومی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔ لیکن اگر پانی کے استعمال کا موجودہ طریقہ برقرار رہا تو مستقبل میں زرعی پیداوار، دیہی آمدنی اور خوراک کی دستیابی تینوں متاثر ہوں گی۔ اسی لیے آب پاشی کی جدید تکنیک، پانی کی پیمائش، نہروں کی مرمت اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔

شہر، صنعت اور آلودگی
کراچی، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور پشاور جیسے بڑے شہر آبادی، گاڑیوں اور صنعتوں کے دباؤ کے تحت تیزی سے پھیلے۔ رہائشی آبادیاں اکثر نکاسی، پبلک ٹرانسپورٹ، کچرا اٹھانے اور سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولتوں سے پہلے وجود میں آگئیں۔ اس بے ہنگم پھیلاؤ کے نتیجے میں ندی نالے گندے پانی کے راستے بن گئے، کھلی جگہیں اور زرعی زمین کنکریٹ میں تبدیل ہوئی اور قدرتی نکاسی کے راستے بند ہوتے گئے۔ گاڑیوں، صنعتوں، اینٹوں کے بھٹوں، تعمیراتی گرد، فصلوں کی باقیات اور کچرا جلانے سے فضائی آلودگی اور سموگ کا مسئلہ سنگین ہوگیا۔یوں غیر منظم ترقی کی قیمت بالآخر صحت، تعلیم، محنت کی صلاحیت اور سرکاری بجٹ کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ شہری منصوبہ بندی میں ماحول کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ کبھی سموگ، کبھی گرمی کی لہر اور کبھی چند گھنٹوں کی بارش کے بعد شہری سیلاب کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

جنگلات: قدرت کی حفاظتی دیوار
اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت، (FAO)، کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 44 لاکھ 78 ہزار ہیکٹر رقبے پر جنگلات تھے۔ یہ ملک کے مجموعی رقبے کا تقریباً 5.1 فیصد بنتا ہے۔ مختلف ادارے جنگلات کی پیمائش کے لیے الگ طریقے استعمال کرتے ہیں، اس لیے اعداد میں معمولی فرق ہوسکتا ہے۔ شمالی علاقوں کے جنگلات پہاڑی زمین کو کٹاؤ سے بچاتے اور پانی کے قدرتی ذخائر کی حفاظت کرتے ہیں۔ دریاؤں کے کنارے موجود جنگلات سیلاب کے اثرات کم کرتے ہیں، جبکہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں پائے جانے والے مینگرووز سمندری طوفانوں، ساحلی کٹاؤ اور سمندری پانی کے پھیلاؤ کے خلاف قدرتی دیوار کا کام کرتے ہیں۔ ایندھن کے لیے لکڑی کا استعمال، جانوروں کی بے قابو چرائی، غیر قانونی کٹائی، جنگلاتی زمین کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور نگرانی کے ناقص نظام کی وجہ سے جنگلات کو نقصان پہنچا ہے۔ نئے درخت لگانا ضروری ہے، لیکن کامیابی صرف پودوں کی تعداد سے نہیں ناپنی چاہیے۔ یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ کتنے پودے زندہ رہے، مقامی قسم کے کتنے درخت لگائے گئے اور قدرتی جنگلات اور جنگلی حیات کو کس حد تک محفوظ بنایا گیا۔

آج کا پاکستان: بحران کی موجودہ تصویر

2022 کا سیلاب….ایک واضح تنبیہ
2022 کے مون سون سیلاب پاکستان کے موجودہ موسمیاتی خطرے کی سب سے نمایاں مثال ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور یونیسف کے مطابق تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 1,739 جانیں ضائع ہوئیں، 22 لاکھ سے زیادہ گھر نقصان زدہ یا تباہ ہوئے اور تقریباً 80 لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ سیلاب نے فصلوں، اسکولوں، صحت مراکز، سڑکوں، پلوں اور پینے کے پانی کی تنصیبات کو بیک وقت نقصان پہنچایا۔ حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی اداروں کے مشترکہ Post-Disaster Needs Assessment کے مطابق مادّی نقصان 14.9 ارب امریکی ڈالر اور معاشی خسارہ 15.2 ارب ڈالر تھا۔ یوں مجموعی اقتصادی اثر تقریباً 30.1 ارب ڈالر بنتا ہے، جبکہ بحالی اور تعمیرِ نو کی ضروریات 16.3 ارب ڈالر قرار دی گئیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر سیلاب کی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں ہوتی۔ تاہم درجہ حرارت بڑھنے سے ہوا میں نمی زیادہ ہو جاتی ہے، جس سے شدید بارش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اگر پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیرات ہوں، نکاسی کا نظام خراب ہو، جنگلات کم ہوجائیں اور حفاظتی بند کمزور ہوں تو شدید بارش تباہ کن سیلاب بن سکتی ہے۔ غربت کی وجہ سے لوگوں کے پاس محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور دوبارہ زندگی شروع کرنے کے وسائل بھی محدود ہوتے ہیں، اس لیے نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے یہ بھی واضح کیا کہ موسمی آفت کا نقصان سب پر برابر تقسیم نہیں ہوتا۔ غریب خاندان، خواتین، بچے، بے زمین کسان، معذور افراد اور کچی آبادیوں کے رہائشی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس محفوظ رہائش، بچت، بیمہ اور فوری نقل مکانی کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔

ہوا: نظر نہ آنے والی قومی ہنگامی حالت
عالمی ادارہ صحت کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ہوا میں موجود انتہائی باریک اور نقصان دہ ذرات کی مقدار محفوظ حد سے تقریباً 13 گنا زیادہ تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فالج اور دل کی بیماریوں سے ہونے والی 35 فیصد اموات کا تعلق فضائی آلودگی سے تھا۔ یہ مسئلہ صرف سردیوں میں لاہور کی سموگ تک محدود نہیں۔ ٹرانسپورٹ کا دھواں، کم معیار کا ایندھن، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹے، کچرا جلانا، تعمیراتی گرد، فصلوں کی باقیات اور گھریلو ٹھوس ایندھن سال بھر شہریوں کی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ فضائی آلودگی پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ دل، دماغ، بچوں کی نشوونما، حمل، تعلیمی کارکردگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ آلودہ ہوا کی وجہ سے بیماریوں اور اموات میں اضافہ انسانی المیوں کے ساتھ قومی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔

پانی، خوراک اور برفانی ذخائر
پاکستان کی آبادی اور خوراک کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔ اس نظام کو بارش، برف اور ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیئر پانی فراہم کرتے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ابتدا میں برف پگھلنے اور سیلابی بہاؤ میں اضافہ کرسکتا ہے، لیکن طویل مدت میں برفانی ذخائر سکڑنے سے پانی کی موسمی دستیابی غیر یقینی ہوسکتی ہے۔ آبادی میں اضافہ، شہری طلب، زیرِ زمین پانی کا بے تحاشا استعمال اور غیر مؤثر آب پاشی اس دباؤ کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ پانی کی قلت صرف مقدار کا مسئلہ نہیں۔ سیوریج، صنعتی اخراج، زرعی زہروں اور سیلاب کے بعد آلودہ ہونے والے پانی کے ذرائع بیماری اور غذائی قلت میں اضافہ کرتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی 2022 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسہال سے ہونے والی 58 فیصد اموات کو غیر محفوظ پانی، صفائی اور ناکافی ذاتی حفظانِ صحت سے منسوب کیا گیا تھا۔ ہمیں صاف پانی کی فراہمی کو صرف بلدیاتی خدمت نہیں بلکہ بنیادی صحت، تعلیم، خواتین کی بہبود اور قومی پیداوار کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔

آبادی اور ماحولیاتی عدم مساوات
2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ 2017 میں یہ 20 کروڑ 76 لاکھ 80 ہزار تھی۔ اس طرح چھ سال کے دوران ملک کی آبادی میں ہر سال اوسطاً 2.55 فیصد اضافہ ہوا۔ زیادہ آبادی بذاتِ خود جرم نہیں، مگر جب رہائش، تعلیم، صحت، روزگار، پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں اسی رفتار سے نہ بڑھیں تو ماحولیاتی دباؤ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ خواتین، بچے، معذور افراد، بے زمین کسان، ماہی گیر، کچی آبادیوں کے رہائشی اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ رکھنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ نقصان برداشت کرتے ہیں۔ اسی لیے موسمیاتی پالیسی کو محض انجینئرنگ نہیں بلکہ صحت، انصاف اور روزگار کی پالیسی بھی سمجھنا ہو گا۔

آنے والا کل: 2030 سے 2050 تک دو ممکنہ راستے

اگر ہم نے راستہ نہ بدلا
عالمی بینک کے اندازے کے مطابق شدید گرمی اور سیلاب کی وجہ سے 2050 تک پاکستان کی معیشت کو 6.5 سے 9 فیصد تک نقصان ہوسکتا ہے۔ زراعت کے لیے پانی کی کمی سے 4.6 فیصد سے زیادہ اور فضائی آلودگی سے تقریباً 6.5 فیصد سالانہ نقصان کا خدشہ ہے۔ اگر ان تمام خطرات کو ملا کر دیکھا جائے تو 2050 تک ملکی معیشت کا مجموعی سالانہ نقصان 18 سے 20 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ اعداد حتمی پیش گوئی نہیں ہیں۔ یہ موجودہ حالات اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کو سامنے رکھ کر لگائے گئے اندازے ہیں۔ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو کتنا بڑا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کی شہری آبادی 2020 میں تقریباً 37 فیصد تھی، جو 2050 تک بڑھ کر 60 فیصد ہوسکتی ہے۔ اگر شہر موجودہ بے ہنگم انداز میں پھیلتے رہے، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر نہ ہوئی، سبز مقامات کم ہوتے گئے اور نکاسی آب کا نظام درست نہ کیا گیا تو سموگ، شدید گرمی، شہری سیلاب اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔

سمندر کی سطح بلند ہونے اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں میٹھے پانی اور مٹی کی مقدار کم ہونے سے کراچی کے ساحلی علاقوں، ٹھٹھہ، بدین اور مینگرووز کو بھی زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق اگر دنیا میں آلودگی پھیلانے والی گیسوں کا اخراج اسی طرح جاری رہا تو 2050 تک پاکستان میں 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی گرمی سے ہونے والی اموات ماضی کے مقابلے میں چار گنا ہوسکتی ہیں۔

اگر ہم نے پائیدار راستہ چنا
پاکستان کا دوسرا ممکنہ مستقبل ایسا ہوسکتا ہے جہاں موسمیاتی موافقت اور معاشی ترقی ایک دوسرے کی مخالف نہ ہوں۔ آب پاشی کے پانی کی پیمائش، لیزر لیولنگ، جدید آب پاشی اور علاقے کے مطابق موزوں فصلوں سے پانی بچایا جاسکتا ہے۔ چھتوں کو گرمی سے محفوظ بنانے، سفید یا ٹھنڈا رکھنے، درخت لگانے اور سایہ دار مقامات بنانے اور ہیٹ ویو ایکشن پلان بنانے سے شدید گرمی کے اثرات کم کیے جاسکتے ہیں۔ بس ریپڈ ٹرانزٹ، ریل، محفوظ پیدل راستے، صاف ایندھن اور گاڑیوں کے اخراج کی جانچ شہری ہوا کو بہتر بنا سکتی ہے۔ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی درآمدی ایندھن کے بل اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرسکتی ہے۔تاہم کم کاربن معیشت کی طرف منتقلی منصفانہ ہونی چاہیے تاکہ کوئلے، اینٹوں کے بھٹوں، ٹرانسپورٹ اور غیر رسمی شعبے کے کارکن بے روزگار یا معاشی طور پر غیر محفوظ نہ ہوں۔

پاکستان نے 2025 کے قومی موسمیاتی منصوبے میں ہدف مقرر کیا ہے کہ 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد تک کمی کی جائے گی۔ اس میں سے 17 فیصد کمی پاکستان اپنے وسائل اور حکومتی اقدامات سے کرے گا، جبکہ باقی 33 فیصد کمی کے لیے عالمی مالی مدد، جدید ٹیکنالوجی اور فنی تعاون درکار ہوگا۔ یہ ہدف اس وقت قابلِ اعتبار ہوگا جب توانائی، ٹرانسپورٹ، میتھین، جنگلات، زراعت اور کچرے کے شعبوں کے لیے سالانہ قابلِ پیمائش اہداف، واضح بجٹ اور آزادانہ رپورٹنگ کا نظام قائم ہو۔

اب کیا کرنا ہوگا؟
پانی اور زراعت: صوبائی سطح پر پانی کا باقاعدہ حساب، زیرِ زمین پانی کی رجسٹریشن، فصل اور علاقے کے مطابق آبی ترغیبات، نہروں کے رساؤ میں کمی، بارانی ذخائر، سیلابی میدانوں کی حد بندی اور کسانوں کے لیے موسمی بیمہ متعارف کرانا ہوگا۔

آفات سے تحفظ: ہر ضلع کے موسمیاتی خطرات کے نقشے تیار کیے جائیں۔ موبائل فون اور مقامی زبانوں میں قبل از وقت تنبیہ کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ اسکولوں اور بنیادی صحت مراکز کو سیلاب اور گرمی کے مطابق مضبوط کیا جائے اور تعمیرِ نو میں پہلے سے بہتر معیار لازمی قرار دیا جائے۔

صاف ہوا: ملک بھر میں قابلِ اعتماد فضائی نگرانی کا نیٹ ورک قائم کیا جائے اور اس کا ڈیٹا عوام کے لیے کھلا ہو۔ صنعتوں، بھٹوں اور گاڑیوں کے اخراج کی جانچ، صاف ایندھن، فصلوں کی باقیات کے متبادل، معیاری پبلک ٹرانسپورٹ اور کچرا جلانے پر مؤثر پابندی ضروری ہے۔

شہر اور رہائش: بلدیاتی حکومتوں کو مالی اور انتظامی اختیار دیا جائے۔ نکاسی، سیوریج، سبز و آبی مقامات، ٹھنڈی چھتوں اور کم آمدنی والے علاقوں کی باقاعدہ ترقی پر سرمایہ کاری کی جائے۔ نئی تعمیرات کو قدرتی نالوں اور سیلابی راستوں سے باہر رکھا جائے۔

قدرت اور جنگلات: قدرتی جنگلات، دریائی بیلٹس، چراگاہوں، دلدلی علاقوں اور مینگرووز کو محفوظ کیا جائے۔ شجرکاری میں مقامی انواع اور کم از کم پانچ سال تک پودوں کی بقا کی نگرانی ضروری ہو۔ مقامی آبادی کو جنگلات کے معاشی فوائد میں حصہ دیا جائے۔

توانائی اور موسمیاتی انصاف: سستی شمسی توانائی، بجلی کے گرڈ، توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور توانائی مؤثر عمارتوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔ فوسل ایندھن کی سبسڈی بتدریج تبدیل کی جائے اور متاثرہ کارکنوں کے لیے تربیت، متبادل روزگار اور سماجی تحفظ مہیا کیا جائے۔

علم، بجٹ اور احتساب: ہر بڑے سرکاری منصوبے کے لیے موسمیاتی خطرے کا جائزہ لازمی ہو۔ وفاق اور صوبوں کے موسمیاتی اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔جامعات، محکمہ موسمیات اور تحقیقی اداروں کے ڈیٹا میں سرمایہ کاری کی جائے۔

ہر سال 14 اگست کو جشن آزادی کے موقع پر ملک کی ماحولیاتی کارکردگی پر ایک قومی رپورٹ جاری کی جانی چاہیے۔ اس رپورٹ میں بتایا جائے کہ صاف ہوا، محفوظ پانی، جنگلات، توانائی، آلودہ گیسوں میں کمی اور موسمیاتی خطرات سے بچاؤ کے لیے مقرر کیے گئے اہداف پر کتنی پیش رفت ہوئی۔ میں سمجھتا ہو کہ یومِ آزادی صرف آزادی کا جشن منانے کا دن نہیں بلکہ اپنی قومی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ اس لیے ہر 14 اگست کو عوام کے سامنے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ پاکستان نے اپنے ماحول اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے گزشتہ ایک سال میں کیا عملی اقدامات کیے۔

ذمہ داری کس کی ہے؟
پاکستان کا مقدمہ دو سطحوں پر ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تاریخی طور پر زیادہ اخراج کرنے والی معیشتوں کو گرین ہاؤس گیسوں میں تیز تر کمی، نقصان و تباہی کے فنڈ، قرض کے بجائے رعایتی مالیات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں حصہ دینا چاہیے۔ ملکی سطح پر وفاق کو پالیسی اور مالی ڈھانچا فراہم کرنا ہوگا۔ صوبوں کو پانی، زراعت، جنگلات اور صحت کے معاملات میں اپنی عمل داری بہتر بنانا ہوگی۔ بلدیاتی حکومتوں کو کچرے، نکاسی، عمارتوں اور ٹرانسپورٹ کا نظام سنبھالنا ہوگا، جبکہ صنعت کو صاف ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پانی اور توانائی کا ضیاع کم کریں، کچرا کھلے عام نہ جلائیں اور مقامی ماحولیاتی فیصلوں میں شرکت کریں۔ تاہم ذمہ داری مشترک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کی ذمہ داری برابر ہے۔ جن اداروں، صنعتوں اور طبقات کے پاس زیادہ وسائل اور اختیار ہے، ان پر بڑا بوجھ بھی عائد ہوتا ہے۔

اعداد و شمار کو سمجھتے وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مختلف اداروں کی تحقیق اور طریقۂ کار کی وجہ سے نتائج میں معمولی فرق ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر جنگلات کے رقبے کے اعداد سال اور پیمائش کے طریقے کے مطابق بدل سکتے ہیں۔ معیشت کو ہونے والے نقصانات مستقبل کے اندازے ہیں، جبکہ فضائی آلودگی اور سیلاب کے اثرات جانچنے کے لیے تفصیلی سائنسی تحقیق ضروری ہوتی ہے اس کے باوجود مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے شواہد ایک ہی سمت دکھاتے ہیں، خطرہ بڑا، بڑھتا ہوا، غیر مساوی اور معاشی طور پر نہایت مہنگا ہے۔ اس لیے غیر یقینی کو تاخیر کا بہانہ نہیں بلکہ بہتر ڈیٹا، لچکدار پالیسی اور مسلسل جائزے کی وجہ بننا چاہیے۔

آزادی کا نیا مفہوم
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ایک اجتماعی سیاسی فیصلے اور جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ اکیسویں صدی میں اسی درجے کا اجتماعی فیصلہ ماحول اور آب و ہوا کے بارے میں درکار ہے۔ ہمارا ماضی بتاتا ہے کہ قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال اور بغیر منصوبہ بندی کے ہونے والی ترقی نے کئی مسائل پیدا کیے۔ آج ہم ان کے نتائج سیلاب، سموگ، شدید گرمی، آلودہ پانی اور قدرتی ماحول کی تباہی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ اب ہمارے سامنے دو راستے ہیں،اگر ہم نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو 2050 تک ملک کو بڑے معاشی اور انسانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم ماحول دوست اور منصفانہ ترقی کا راستہ اختیار کریں تو پاکستان کو زیادہ محفوظ، صحت مند اور مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

حقیقی جشنِ آزادی یہ ہوگا کہ ہر شہری کو صاف ہوا، محفوظ پانی، موسمی خطرات سے مضبوط گھر اور باعزت روزگار میسر ہو۔ قومی پرچم کا سفید اور سبز رنگ شمولیت اور زندگی کی علامت بھی بن سکتا ہے، ایسا وطن جہاں ترقی کی قیمت کمزور طبقات اور آنے والی نسلوں کو ادا نہ کرنا پڑے۔ اگر ہم ہر سال 14 اگست کے موقع پر ماحولیاتی کارکردگی کا جائزہ لیں، عوامی خدمت کو فروغ دیں اور واضح قومی اہداف مقرر کریں تو یومِ آزادی صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں رہے گا، بلکہ پاکستان کے محفوظ، سرسبز اور روشن مستقبل کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی علامت بھی بن جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں