مرزا غالب سے منسوب کئی دل چسپ واقعات، اور ان شوخی و ظرافت کے قصّے ہم پڑھتے رہے ہیں۔ یادگارِ غالب میں مولانا حالی نے غالب کے کئی لطائف کو یکجا کردیا ہے۔ غالب کے علاوہ بھی اردو کے کئی نثر نگاروں اور شعرا سے منسوب لطائف دراصل ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور حاضر جوابی کی مثال ہی نہیں ہیں بلکہ اکثر مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ بسا اوقات یہ فردِ واحد کے جذبات، احساسات اور خیالات کا برجستہ اور برمحل اظہار ہوتے ہیں جس سے ان کی شخصیت کو بغیر کسی تصنع یا بناوٹ کے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
جوش ملیح آبادی بھی اردو کے ایک بڑے شاعر اور نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ جوش کی ظرافت، اُن کی ذہانت و طباعی کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔ پیشِ نظر دل چسپ قصّہ اردو کے نام ور نقّاد، محقق، مؤرخ اور مترجم جمیل جالبی نے اپنی کتاب معاصر ادب میں رقم کیا تھا جس سے معلوم ہوتا کہ جوش ملیح آبادی اپنی شریکِ حیات کے سامنے کس طرح عاجز ہوجاتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے۔
ابھی پچھلے دنوں ایرانی سفارت خانے سے دعوت نامہ آیا۔ جوش صاحب، پیر حسام الدین راشدی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ گئے اور میں، مولانا اعجاز الحق قدوسی، مبین الحق صدیقی کے ساتھ۔
وہ (جوش) سفارت خانے میں ہم سے پہلے پہنچے اور ہمارے پہنچنے سے پہلے واپس آگئے۔ ہم جب پہنچے تو محفل برخاست ہو چکی تھی۔ اطلاع ملی کہ وہ مجھے اور مبین الحق صدیقی کو گھر بلا گئے ہیں۔
رات کے دس بجے تھے میں اور مبین الحق صدیقی ان کے گھر پہنچے۔ ہم دونوں کو دیکھ کر بولے، اچھا ہوا آپ لوگ آگئے، مجھے سخت وحشت ہو رہی تھی۔
یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب جوش صاحب نے ریڈیو کے مشاعرے سے ‘بول اک تارے جھن جھن جھن’ نظم پڑھی تھی اور اس بات پر کہ انھیں مشاعرے میں سب کے بعد پڑھوایا گیا تھا چند حاسدوں نے ان کے خلاف اخبار ڈان میں خط شائع کرنے شروع کر دیے تھے۔
میں نے کہا جوش صاحب! وہ نظم تو بہت اچھی تھی، مجھے تو یوں محسوس ہوا کہ اس نظم میں تصورِ انسان الوہیت کے درجے پر پہنچ گیا ہے جہاں رنگ و نسل اور قوم و ملّت کا امتیاز مٹ جاتا ہے۔
بولے، میں نے اسی موضوع پر لکھی ہے لیکن اندازِ بیاں ایسا اختیار کیا ہے کہ بعد الطبیعاتی موضوع سہل ہو کر ہر خاص و عام کے ذہن میں اتر جائے اور ہر شخص اس سے لطف اندوز ہو۔ اس کے قافیے، اس کے الفاظ اور ساتھ ساتھ بحر جو میں نے استعمال کی ہے وہ ساری نظم کو موسیقی کا اثر عطا کر رہی ہے۔
میں نے کہا جوش صاحب! یہ نظم ذرا پھر سن لی جائے۔
آواز دی، ذرا بیگ بهیج دو۔
اس کے جواب میں اندر سے آواز یہ آئی۔ ابھی تو چیخ کر آئے ہو، اب پھر شروع کر دیا۔ یہ ان کی بیگم تھیں۔
رازدارانہ انداز میں آہستہ سے بولے، یہ مادرِ مہربان ہیں۔ انھیں ہر دم ہماری صحت کا خیال رہتا ہے۔



