پاکستان میں قرضوں میں اضافے کی شرح 20 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

0
5

اسلام آباد : پاکستان میں قرضوں میں اضافے کی شرح 20 سال کی کم ترین سطح پر آگئی، گزشتہ 20 سال کے دوران قرضوں میں اضافے کی اوسط شرح 16 فیصد رہی۔

تفصیلات کے مطابق وزارتِ خزانہ نے قرضوں کی صورتحال سے متعلق نئی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں‌ بتایا گیا مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ 20 برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں کہنا تھا رواں مالی سال میں مجموعی قرضوں میں صرف 7.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ 20 سال کے دوران قرضوں میں اضافے کی اوسط شرح 16 فیصد رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہو کر 68.3 فیصد پر آ گیا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ تناسب 75 فیصد تھا اور 2019 سے 2021 کے دوران یہ 86 سے 88 فیصد کے درمیان رہا۔

بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب بھی کم ہو کر 21.5 فیصد پر آگیا، جو گزشتہ 9 برسوں کی کم ترین سطح ہے۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 2.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 4.72 ٹریلین روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایک سال کے دوران قرضوں پر سود کے اخراجات میں تقریباً 2 ٹریلین روپے کی کمی ہوئی، اسی طرح حکومتی آمدن میں سود کی ادائیگی کا بوجھ 61 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد رہ گیا۔

وزارتِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل تین سال پرائمری بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو مالیاتی نظم و ضبط کا اہم اشارہ ہے۔

پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپس آ گیا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کے پانڈا بانڈ کی طلب جاری کردہ حجم سے تقریباً 5 گنا زیادہ رہی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے پاکستان کی ریٹنگ ‘بی’ مستحکم (اسٹیبل) کر دی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق یہ ریٹنگ گزشتہ تقریباً 9 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں