ہم درد کے خریدار ہیں!

0
10

ہمارے معاشرے میں بازاروں میں صرف اشیائے خور و نوش، کپڑے یا گاڑیاں ہی نہیں بکتیں، بلکہ یہاں ایک اور جنس کا کاروبار جاری ہے اور وہ ہے “درد”۔ آج عام انسان درد کا خریدار اور گاہک ہے۔ وہ ہر صبح بستر سے اٹھتے ہی لاقانونیت اور ناانصافی کی دکانوں پر اپنی زندگی کی بقا کا سودا کرنے نکل پڑتا ہے۔یہ کہانی کسی ایک پاکستانی کی نہیں، بلکہ اس دھرتی پر سانس لینے والے کروڑوں ایسے انسانوں کی ہے جو جینے کی خواہش میں روزانہ ایک نئے طرز کی موت مرتے ہیں۔ آج کے دور میں سب سے سستا انسان اور سب سے مہنگی اس کی ضرورتیں بن چکی ہیں۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی ایک عام آدمی کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ کچن کا بجٹ اب محض ایک حساب کتاب نہیں رہا، بلکہ روزمرہ کا اذیت ناک پہلو بن چکا ہے۔ آٹا، دال، چینی اور دودھ جیسی بنیادی اشیا غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہورہی ہیں۔ ایک محںت کش اور دیہاڑی دار دن بھر کی بھاگ دوڑ اور کوشش کے بعد بھی جب شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اور اپنے بچوں کی معصوم آنکھوں میں امید کے ساتھ ساتھ سہمے ہوئے سوال دیکھتا ہے، تو وہ درد کا سودا کرتا ہے جس کی قیمت کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا۔ اسی طرح بجلی، گیس اور پٹرول کے بل اب محض ہندسے نہیں رہے، یہ کسی غریب کے گھر کا چولھا بجھانے کے شاہی پروانے بن چکے ہیں، اور لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں، بیماری کا علاج کروائیں یا بجلی کا بل ادا کریں۔

ہمارے معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں قانون صرف ان کے لیے ہے جو اس کی قیمت نہیں چکا سکتے۔ سڑکوں پر دندناتے پھرتے اسٹریٹ کرمنلز سے لے کر بااثر طبقے کی بے لگام گاڑیوں تک، عام آدمی کی جان و مال کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ ایک عام شہری گھر سے نکلتے ہوئے اپنے موبائل اور بٹوے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کی ضمانت بھی خدا کے سپرد کر کے نکلتا ہے۔ سڑکوں پر چھینا جھپٹی اور قتل و غارت کے واقعات اتنے عام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی خبر، خبر نہیں لگتی، جب کہ ادارے جن کا کام عوام کی حفاظت کرنا تھا، اکثر یا تو بے بس نظر آتے ہیں یا پھر طاقتور کے سامنے سرنگوں دکھائی دیتے ہیں۔

قانون کا ڈنڈا صرف کمزور کی پیٹھ پر برستا ہے۔ جہاں انصاف بکنے لگے، وہاں زندگی کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے نسلیں بیت جاتی ہیں لیکن انصاف کا سورج کبھی طلوع نہیں ہوتا۔ اگر آپ کے پاس پیسہ اور اثر و رسوخ ہے، تو آپ کے لیے کوئی قانون معنی نہیں رکھتا، لیکن اگر آپ کے پاس صرف سچ اور حق ہے، تو آپ کو قدم قدم پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نظام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ غریب کا حق چھیننا سب سے آسان کام بن چکا ہے۔ نوکریوں کی بندر بانٹ ہو یا تعلیمی اداروں میں سفارش، محنت اور لیاقت اب پسِ پشت ڈال دی گئی ہے۔

اس ملک کا عام آدمی اب ایک عجائب میں سے ہے جو روزانہ ٹوٹتا ہے، لیکن اگلے دن پھر ایک نئی امید کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ لوگ اب صرف زندہ رہنے کے لیے لڑ رہے ہیں؛ وہ ایک اضافی نوکری کرتے ہیں، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں، اور اپنے بچوں کی مسکراہٹ کی خاطر ہر درد کو مسکرا کر سہہ جاتے ہیں۔ شاید یہی درد کا رشتہ ہے جو عوام کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے کہ جب نظام ناکام ہوتا ہے، تو لوگ اپنے سے زیادہ مجبوروں اور محتاجوں کا سہارا بننے کے لیے خود آگے آتے ہیں۔

ہم کب تک درد کے خریدار بنے رہیں گے؟ یہ سوال ہر اس شہری کا ہے جو اس معاشرے کا حصہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ اس بے حسی، ناانصافی اور لاقانونیت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ عزّت، انصاف اور امن کے ساتھ جینا ہر انسان کا حق ہے۔ جب تک ہم بحیثیت مجموعی اپنے حقوق کے لیے بیدار نہیں ہوں گے، یہ بازار یوں ہی سجا رہے گا اور ہم یوں ہی درد خریدتے رہیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں