نثار احمد فاروقی: قصّہ ایک آشفتہ سر اور پراگندہ طبع کا…

0
8

نثار احمد فاروقی اردو، فارسی، عربی کے عالم، ہندی اور انگریزی کے ماہر، تصوف کے شناور اور مجلسی زندگی کی جان تھے۔ سیکڑوں حکایات اور لطائف ان کی نوکِ زبان پر، اُردو اور فارسی کے ہزار ہا اشعار انھیں اس طرح از بر کہ ہر موقع و محل کا شعر ہر وقت حاضر۔ غرض یہ توفیق بھی ہر شخص کو کہاں کہ نثار احمد فاروقی کے کمالاتِ فن پر بات ہی کر سکے۔ اس لیے نثار پر بات کرنے کا آسان راستہ یہی ہے کہ ان کے کمالات فن کو ایک طرف رکھ کر صرف ان کی شخصیت اور ذات کے بارے میں دو چار باتیں کر لی جائیں۔جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں نے نثار احمد فاروقی سے بہت کچھ سیکھا ہے، لیکن وہ کتنا اور کچھ مجھے یا دوسروں کو سکھا سکتے تھے اس کا اندازہ ان کے ساتھ پچاس برس کی رفاقت کے باوجود آج تک میں نہیں لگا سکا۔

میر تقی میر ابتدا ہی سے نثار کے محبوب شاعر تھے۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ میر اور نثار دونوں میں چند صفات مشترک تھیں، یعنی دونوں بے دماغ، آشفتہ سر اور پراگندہ طبع۔ چناں چہ جواں سالی ہی میں میر کے سیکڑوں اشعار ان کے وردِ زبان تھے۔ میں نے میر کے بیشتر اشعار پہلے پہل نثار ہی کی زبانی سنے اور انھیں براہِ راست پڑھنے کا موقع بعد میں ملا۔

میں چوں کہ ابھی خود کو طفلِ مکتب ہی سمجھتا تھا اس لیے اپنی حیثیت کے تناظر میں نثار کو ادبی مذاق کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت کے روپ میں دیکھا تھا، لیکن یہ مکمل شخصیت خود اپنے آپ کو کتنا تشنہ اور نا آسودہ سمجھتی تھی، میں نے یہ تماشا بھی بارہا دیکھا ہے۔ نثار صاحب کی شیروانی کی جیب میں ایک ڈائری ہوا کرتی تھی۔ اور باتوں کے علاوہ اس ڈائری کا ایک اہم مصرف یہ بھی تھا کہ دوسروں سے سنے ہوئے ایسے اشعار جو انھیں اچھے لگتے تھے، فوراً ڈائری میں نوٹ کر لیا کرتے تھے اور اس میں کوئی عرفی، نظیری اور خاقانی کی قید نہیں تھی۔ ایک آدھ بار تو انھوں نے اسلم پرویز تک کا شعر اپنی ڈائری میں نوٹ کر ڈالا تھا۔ بہرحال ادبی مذاق کے اعتبار سے میرا وجود ابھی گندھی ہوئی مٹی کے اس لوندے جیسا تھا جو کمہار کے چاک پر اس انتظار میں گھوم رہا ہوتا ہے کہ کب کمہار کی انگلیوں کا مس اس کے اندر سوئے ہوئے سنگیت کو جگاتا ہے اور اسے گھڑ کر کچھ سے کچھ بناتا ہے۔ یوں تو جیسا تیسا شعر کہنا مجھے چار پانچ برس پہلے ہی اسکول کے زمانے میں آچکا تھا اور بعد میں علی گڑھ کی ہاسٹل کی زندگی میں مزاج کی شوخی اور شرارت کو بھی خاصی دھار لگ چکی تھی لیکن ان کیفیات کے شعری مذاق اور بذلہ سنجی میں ڈھل جانے کے لیے ابھی ایک آنچ کی کسر باقی تھی۔ زندگی کا یہی وہ موڑ تھا جہاں میری مڈ بھیڑ اس کیمیا گرِ بذلہ سنجی سے ہوئی جس کا نام نثار احمد فاروقی ہے۔ دراصل جس چیز کو ہم بذلہ سنجی کہتے ہیں اس میں بہت بڑا دخل تربیت اور ریاض کا بھی ہے۔ تربیت انسان کی تقدیر ہے اور ریاض اس کی تدبیر۔ تقدیر اگر چوکھی ہو تو کبھی کبھی تدبیر کے معاملے میں آدمی غفلت بھی برت جاتا ہے۔ میرا معاملہ کچھ ایسا ہی رہا ہے۔

اینگلو عربک اسکول کے زمانے میں میرے فارسی کے استاد سید وزیر الحسن عابدی اور اُردو کے استاد مولانا رہبر پرتاپ گڑھی کی شفقتیں یا شمع کے دفتر میں نثار احمد فاروقی، ظ ۔انصاری اور بسمل سعیدی جیسے لوگوں کی قربتیں اور محبتیں جو آگے چل کر دائمی تعلق کی شکل اختیار کر گئیں اور انجمن تعمیر اُردو کی مستقل نشستیں گویا میرے لیے تربیت کا سامان فراہم کرتی رہیں۔

نثار احمد فاروقی کا تعلق امروہہ کے جس گھرانے سے تھا، وہ علمی اعتبار سے متمول اور اقتصادی طور پر خود کفیل ہے۔ چنانچہ وہ جب اپنی بقچی بغل میں داب کر دلّی جیسے بڑے شہر کی طرف روانہ ہوئے تو اس سفر کا تمام تر مقصد دیہات اور قصبات سے آنے والے عام لوگوں کی طرح حصولِ تعلیم و معاش ہی نہیں تھا۔ دراصل امروہہ سے تو انھیں بھگا کر لائی ان کی آشفتہ سری۔ ویسے علم اور روزگار کے میدان میں خوب سے خوب تر کی جستجو ایک دانش ورانہ ناآسودگی کا خاصّہ بھی ہے۔ چنانچہ نثار کی زندگی میں یہ عمل اسی نہج پر جاری رہا۔

میر کی جانب نثار کا جھکاؤ کچھ خواہ مخواہ ہی نہیں ہے۔ دونوں کے مزاج میں کسی درجہ ہم آہنگی ہے۔ میر کی سی بے دماغی اور میر کی سی شورشِ جنوں کے آثار کبھی کبھی اس پراگندہ طبع کے ہاں بھی دکھائی دیتے تھے، لیکن معتقدِ میر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ شاید پیروِ غالب بھی تھے۔ اس لیے ان کی نگاہوں میں دلّی سے آگے جادہ راہِ فنا کے علاوہ کوئی افق نہیں، کوئی لکھنؤ نہیں، کوئی حیدر آباد نہیں تھا۔

قلندری کی شان صرف ملنگ بنے رہنے میں نہیں ہے، ورنہ یہ بات کیوں کہی جاتی، “اگرچہ سر نہ ترا شد قلندری داند” شاید اپنے مزاج کی فرماں برداری اور فرماں روائی سے بڑی قلندری کوئی نہیں ہے اور نثار نے اپنی ذات کی تمام تر خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ اسی طرح زندگی گزاری ہے۔ بقول سید انشاء

کاٹے ہیں ہم نے یوں ہی ایّام زندگی کے
سیدھے سے سیدھے سادے اور کج سے کج رہے ہیں

مشہور کمیونسٹ لیڈر یکیہ دت شرما جو وائی ڈی کے نام سے مشہور تھے، کمرشل ایمپلائز یونین کے صدر تھے۔ ان کا دفتر آصف علی روڈ پر دفاتر شمع کی بغل میں تھا۔ تو ہوا یوں کہ آخر ایک دن ٹریڈ یونین دفاتر شمع میں بھی پہنچ ہی گئی۔ اس کے فوری ردعمل کے طور پر ملازموں کی برطرفی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس ریلے میں نثار صاحب بھی معطل کر دیے گئے اور اس طرح کہ ادارہ انہیں کسی صورت واپس لینے کو تیار نہ تھا۔ اس پر لیبر کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ مقدمے کا فیصلہ ہونے تک نثار صاحب مع تنخواہ معطل رہیں گے۔ اسی دوران انھیں دہلی یونیورسٹی لائبریری میں ایک ملازمت مل گئی جو نثار صاحب کے مرتبے کے لائق نہ سہی شمع کی نوکری سے بہرحال بہتر تھی۔ اب گویا یہ کتابوں کی کھان میں جا بیٹھے۔لائبریری کو مستفید کرنے والے تو ان سے بہتر اور درجنوں کلرک تھے، لیکن خود لائبریری سے حد درجہ مستفید ہونے والے شاید یہ تنہا اسٹاف ممبر تھے۔ نثار احمد فاروقی کبھی لائبریری وقت پر نہیں پہنچتے تھے۔ ان کا معمول یہ تھا کہ دیر گئے رات تک لالٹین کی روشنی میں بیڑیاں پھونک پھونک کر مطالعے میں غرق رہتے، صبح دیر سے سو کر اٹھتے، نہا دھو کر گلی قاسم جان سے بلی ماراں کا رخ کرتے، حویلی حسام الدین حیدر سے تھوڑا آگے چل کر اسی ہاتھ پر حافظ ہوٹل تھا جس میں نثار صاحب ماہانہ ادھار پر کھانا کھاتے تھے۔ کھانا کھا کر چلتے ہوئے کاؤنٹر پر حافظ جی سے تقاضا ہوتا، “لاؤ بھئی حافظ جی دو روپے دینا۔” حافظ جی یہ دو روپے بھی ان کے ادھار کھاتے میں درج کر دیتے۔ یہ دو روپے نثار صاحب کا دن بھر کا جیب خرچ تھا، یعنی بس کا آنے جانے کا کرایہ، بیڑی کا بنڈل اور ماچس اور دو بار کی چائے۔

اب ان کے مرض الموت (نثار صاحب کو ہڈیوں کا کینسر لاحق ہوگیا تھا) کے کچھ دن پہلے کا ایک واقعہ سن لیجیے۔ انجمن ترقی اردو (ہند) کے دفتر اُردو گھر میں خلیق انجم، نثار احمد فاروقی اور میں محو گفتگو تھے کہ اچانک ایک نو جوان وارد ہوئے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور حیدر دہلوی پر کچھ کام کرنا چاہتا ہوں، لیکن مشکل یہ ہے کہ حیدر دہلوی کا کلام دستیاب نہیں ہے۔ حیدر دہلوی کا ایک مقطع میرے حافظے میں کبھی کا پڑا ہوا تھا، میں نے کہا کہ سرِ دست حیدر میں دہلوی کا ایک مقطع سن لیجیے جو مجھے یاد ہے۔ اور یہ کہہ کر میں نے حیدر دہلوی کا وہ مقطع سنا ڈالا۔ یہ مقطع سن کر ان صاحب پر، جو ایم فل، پی ایچ ڈی قسم کے کوئی اسکالر تھے، تو کچھ اثر نہ ہوا لیکن نثار احمد فاروقی کے منہ سے بے ساختہ واہ واہ نکل پڑی۔ آج ان کے انتقال کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیا اس شعر پر ان کے منہ سے نکلی ہوئی یہ بے ساختہ واہ واہ کوئی صدائے غیب تو نہیں تھی۔ حیدر دہلوی کا مقطع یہ ہے:

پسِ صحرا نوردی، ہڈیوں کا ڈھیر ہیں حیدر
کہ میلا ہو گیا تھا جامۂ ہستی اتار آئے

(مدیر، ادبی محقق، مصنف اور شاعر اسلم پرویز کے مضامین اور چند خاکوں‌ پر مشتمل کتاب “گھنے سائے” سے اقتباسات)

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں