پاکستان میں ہاکی کیوں پیچھے رہ گئی؟

0
2

قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں کے بعد سے پاکستان ہاکی کا شاندار ماضی لاس اینجلس اولمپکس تک بغیر کسی بڑے وقفے کے برقرار رہا۔ 1984ء کے فائنل میں مغربی جرمنی کے خلاف کامیابی نے اولمپک مقابلوں میں پاکستان کو تیسرا گول میڈل دلایا۔ ہاکی میں بھارت کی بتیس سالہ حکمرانی کا خاتمہ انیس سو ساٹھ میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں نصیر بندہ کے فیصلہ کن گول سے ہوا اور پاکستان نے ہاکی میں پہلا سونے کا اولمپک تمغہ اپنے نام کیا۔ اس فتح نے چار سال قبل میلبرن کی ہار کا مداوا کیا اور یہیں سے قومی ہاکی کےعروج کا آغاز ہوا۔ روم سے لاس اینجلس، اس عرصے میں اولمپک میں تمغے حاصل کرنے سمیت ورلڈ کپ، چیمپیئنز ٹرافی، ایشین گیمز، ایشیاکپ اور دیگر میں گاہے گاہے کامیابیاں حاصل ہوئیں اور پاکستان نے ایک سے بڑھ کر ایک سپر اسٹار دیا جن کی شہرت دنیا بھر میں تھی۔

لاس اینجلس کی فاتح قومی ہاکی ٹیم 4 سال بعد ہونے والے سیول اولمپکس کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی جس پر شائقین کھیل اور ناقد خوب گرجے برسے، یعنی قومی کھیل سے واقعی قوم جذباتی لگاؤ اور محبت رکھتی تھی۔ ماضی کے ہیروز کو الودع کہنے کے ساتھ کھلاڑیوں کی ایک نئی پیڑھی نے ٹیم میں جگہ بنائی اور 1990ء کے لاہور میں کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل تک رسائی اور 1992ء بار سلونا اولمپک میں براؤنز میڈل نے امید جگائی کہ گرین شرٹس اب بھی یورپین ٹیموں اور آسٹریلیا سے کم نہیں۔ وہیں ایشیا میں روایتی حریف بھارت، جنوبی کوریا، ملائیشیا اور جاپان کے خلاف ٹیم کو مجموعی طور پر برتری رہی۔

میں نے پاکستان ہاکی کا شاندار ماضی تو نہیں مگرعروج سے زوال کا سفر دیکھا ہے۔ خوش قسمتی کہوں کہ 1994ء ورلڈ کپ فائنل میں گرین شرٹس کو ٹرافی اٹھاتے اور اسی سال لاہورمیں کھیلی جانے والی چیمیئنز ٹرافی میں بھی پاکستان بہترین ٹیم کےساتھ وکٹری اسٹینڈ پر موجود تھی۔ شہباز سینئر، طاہر زمان، منصور احمد، عثمان، وسیم فیروز، کامران اشرف اور دیگر کی موجودگی میں مداح مطمئن تھے کہ قومی کھیل ایک بار پھر محفوظ ہاتھوں میں ہے مگر یہ دیرپا ثابت نہ ہوا۔

وقت گزرتا رہا اور عوام کا پسندیدہ کھیل زوال کی کھائی میں آہستہ آہستہ گرتا چلا گیا اور نئی نسل نے جب کامیابیوں سے زیادہ شکستیں دیکھیں تو کھیل سے کچھ فاصلہ اختیار کر لیا۔ نصیر بندہ، اصلاح الدین، اختر رسول، منظور جونیئر، حنیف خان، سمیع اللہ، حسن سردار، شاہد علی خان اور کئی ماضی کےعظیم کھلاڑی جن کے کھیل کے پاکستانی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا معترف تھی، مگر آج کی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے واقفیت ماضی جیسی نہیں۔ میدان کا کھیل کبھی عوام میں اس حد تک مقبول تھا کہ گلیوں میں بھی کھیلا جاتا تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ 2000 کے سڈنی اولمپکس کے دوران ہم نے گلی میں کرکٹ کے بجائے ہاکی کھیلی تو کم ہی لوگ یقین کریں۔

ہاکی کا زوال اچانک نہیں ہوا، اس کے کئی عوامل ہیں۔ سب سے پہلے یہ خمار کہ ہم سے بہتر کوئی اور نہیں، ہماری تیکنیک سب سے بہترین ہے یعنی اصلاح، نئے دور اور بدلتے کھیل کے اصولوں کو اپنانے میں دیر کی۔ آسٹرو ٹف کے آنے سے کھیل میں تیزی آئی جس پر بہت حد تک ہمارے کھلاڑی قابو پانے میں کامیاب ہوئے مگر فٹنس کا معیار دیگر ٹیموں کے برعکس کم ہونے پر مثبت نتائج کم ہوتے گئے۔ نوے کی دہائی میں آف سائڈ کا رول ختم ہوا جس نے ہمارے کھیل پر اثر ڈالا۔ شاٹ پاسنگ کے لیے مشہور پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے بجائے دیگر ممالک نے اس تبدیلی کا خوب فائدہ اٹھایا۔ یہی نہیں کئی دیگر کھیل کے قواعد بدلے جن سے ہم آہنگ ہونے میں ہچکچاہٹ نے ہمارے کھیل کو شدید متاثر کیا۔ پھر میچ کے 35 منٹ کے دو ہاف سے 15 منٹ کے 4 کوآرٹرز کا سفر بھی ہمارے حق میں نہیں رہا اور کھیل بے انتہا تیز ہو گیا۔ اپنی کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کسی حد تک درست محسوس ہوتا ہے کہ قوانین میں تبدیلی کی ہی ایسی گئی جس سے ایشین ٹیموں کو فائدہ اٹھانے میں مشکل ہو۔

ان سب باتوں کے باوجود بھی نوے کی دہائی سے سال 2014ء تک قومی ہاکی ٹیم تمام ہی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کا حصہ بنتی رہی اورایشیا میں وکٹری پوڈیم تک پہنچتی رہی۔ اس دوران سہیل عباس، ریحان بٹ، شکیل عباسی، وسیم احمد، ندیم این ڈی، احمد عالم اور دیگر کھلاڑی قومی ٹیم کو سہارا دیتے رہے۔ پھر وہ دور بھی آیاکہ اولمپک سمیت ورلڈ کپ میں ہماری عدم موجودگی بڑی بات نہ رہی۔ 8 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی پر مداح ایک بار پھر ٹیم کی کامیابی کے لیے پُرامید ہوئے مگر پہلے ہی راؤنڈ میں ناکامی نے شائقین کو دلبرداشتہ کر دیا۔

کوتاہیاں یا قوانین میں تبدیلیاں اپنی جگہ لیکن ہاکی کو پروفیشنل کرنے میں ایسوسی ایشن سمیت متعلقہ ذمہ دار مکمل طور پر ناکام رہے۔ ہاکی کی موجودہ صورت حال دیکھتے ہوئے شاید ہی والدین اپنے بچوں کو اس جانب جانے دیں۔ ایک دور تھا جب بینکوں، سرکاری محکموں سمیت ریجن کی سطح‌ پر ٹیمیں ہوتی تھیں جہاں کھلاڑیوں کی مستقل نوکریاں انھیں فکر معاش سے آزاد رکھتی تھیں۔ کھلاڑیوں کی توجہ کھیل پر مرکوز رہتی اور بہتر نتائج بین الاقوامی لیگز میں جگہ دلانے کا باعث بنتے۔ گزشتہ چند سالوں میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کی بندش نے کھیل کو ایسا نقصان پہنچایا جس کی بھرپائی مشکل دکھائی دیتی ہے، وہیں دیگر ممالک کی طرح پروفیشنل لیگ کا نہ ہونا ہمارے کھیل کے معیار کو مزید پیچھے کر رہا ہے۔ ان حالات میں جہاں نوکریاں، سہولتیں اور کنٹریکٹ تو دور کی بات مستقل ڈیلی الاؤنس نہ ملنے کے شکوے کے باوجود کھلاڑی کسی نہ کسی طرح ہاکی کھیل رہے ہیں۔

پاکستان میں پروفیشنل لیگ کی بات دیوانے کا خواب لگتی ہے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کون ایسی جگہ سرمایہ لگانے پر راضی ہوگا جہاں سے منافع حاصل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو۔ اب یہاں حکومت، فیڈریشن اور متعلقہ افراد پر ذمہ داری آتی ہے کہ وہ کرکٹ کی طرز پر ہاکی میں بھی ایڈوٹائزر، انویسٹر اور براڈ کاسٹرز کو شامل کریں اور ہاکی کی ترقی کی جانب پہلا بڑا قدم اٹھائیں۔ جب کھلاڑیوں‌ کو مالی سپورٹ ملے گی تو سب کی دلچسپی ہاکی کی جانب لوٹے گی۔

دنیا بھر میں ہاکی اب پروفیشنل کھیل ہوگیا ہے اور لیگ کے بغیر کھیل کا فروغ ناممکن ہے۔ اس سب کیلیے طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو شامل کرنا ہوگا جو کھیل کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اولمپیئنز کے ایک دوسرے سے اختلافات اور انا کسی طور ہاکی کیلیے فائدہ مند نہیں اور وہیں ریجنل ایسوسی ایشنز کا غیر ضروری اثر و رسوخ بھی فائدے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ ماضی میں کھلاڑیوں کا پول جہاں سے ملتا تھا وہ مقام اسکول، کالج اور جامعات ہیں، یہاں ایک بار پھر ہاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ عوامی سطح پر کھیل کی پذیرائی کم ہوئی ہے تاہم قوم کے ڈی این اے میں یہ کھیل موجود ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں