کیا آپ جانتے ہیں آپ کے کرتوں اور قالینوں پر کڑھائی کا ڈیزائن کیسے تخلیق ہوا؟ کرتے پر کڑھائی (ایمبرائیڈری) کا ڈیزائن کسی ایک واحد فرد نے تخلیق نہیں کیا، بلکہ یہ چار سو سال پرانا ورثہ ثقافتی اور اجتماعی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔
اس قسم کی نقش و نگار کا فن مختلف تہذیبوں، شاہی خاندانوں اور گمنام مقامی کاریگروں کی مہارت سے وجود میں آیا جو صدیاں بیت جانےھ کے بعد بھی مقبول عام ہے۔
موجودہ دور میں کپڑوں پر بنے پھول، پتے اور دیگر نقش و نگار محض فیشن کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کے پس منظر میں صدیوں پرانی فنّی تاریخ موجود ہے۔
ملائکہ اسحاق کی رپورٹ کے مطابق مغل دور سلطنت کے ملبوسات میں فارسی اور مغلیہ فنِ نقش و نگار کے امتزاج نے برصغیر کے لباس اور ٹیکسٹائل ڈیزائن کو ایک نئی شناخت دی۔
تاہم کرتے پر کڑھائی کے سب سے مشہور اور تاریخی ڈیزائنوں کی تخلیق اور ان کی مقبولیت کا سہرا مغلیہ فنِ نقش و نگار کے امتزاج کی مرہون منت ہے۔
کرتے پر کڑھائی کے سب سے مقبول ڈیزائن جسے چکن کاری کہا جاتا ہے کی تخلیق کا سہرا مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں کو دیا جاتا ہے۔
تاریخی طور پر مغل اور فارسی فنون کا تعلق اس وقت مزید مضبوط ہوا جب مغل بادشاہ ہمایوں ایران گئے، وہاں کے شاہانہ طرزِ زندگی اور فنون سے متاثر ہو کر ہمایوں اپنے ساتھ ممتاز فارسی ماہر فنکاروں کو ہندوستان لائے، جنہوں نے ابتدائی مغلیہ فن اور ڈیزائن پر گہرا اثر ڈالا۔

ابتدائی مغلیہ فن میں فارسی طرز کے انتہائی متوازن اور متناسب جیومیٹریائی نقش نمایاں تھے، فارسی ڈیزائن میں ایسے مسلسل اور دہرائے جانے والے پیٹرن استعمال کیے جاتے تھے جو بظاہر لامحدود انداز میں پھیلتے محسوس ہوتے تھے۔
تاہم بعد کے ادوار میں خصوصاً جہانگیر اور شاہ جہاں کے زمانے میں، مغلیہ فنکاروں نے فارسی طرز کو جوں کا توں اپنانے کے بجائے اسے اپنی منفرد شناخت دی، مغل فن میں قدرتی مناظر، پھولوں اور پودوں کی حقیقت سے قریب تر عکاسی کو خاص اہمیت حاصل ہوئی۔
مغل ڈیزائن میں اگر لالہ، گلاب یا کسی دوسرے پھول کو شامل کیا جاتا تو اس کی ساخت، تنے اور پتّیوں کی شکل کے ساتھ ساتھ پنکھڑیوں کی حقیقی بناوٹ اور سایہ کاری پر بھی توجہ دی جاتی تھی، یوں مجرد جیومیٹریائی نقشوں کو قدرتی اور جاندار شکلوں میں ڈھال دیا گیا۔
بوٹا نقش و نگار
فارسی طرز میں جہاں مسلسل اور متوازن پیٹرن نمایاں تھے، وہیں مغل فنکاروں نے بُوٹا جیسے نقش کو مقبول کیا۔ بُوٹا عموماً ایک الگ اور نمایاں پھول یا نباتاتی شکل ہوتی ہے جو کپڑے کی خالی جگہ میں منفرد انداز سے ابھرتی ہے۔
آج کے ملبوسات میں نظر آنے والے پھول، پتے اور بُوٹے اسی طویل فنّی روایت کی جدید شکلیں قرار دیے جا سکتے ہیں۔ مغلیہ اور فارسی فنون کا یہ امتزاج نہ صرف برصغیر کے ٹیکسٹائل ڈیزائن کو متاثر کرتا رہا بلکہ صدیوں بعد بھی فیشن میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔



