غربت: کیا صرف صبر اور قناعت کا درس ہی کافی ہے؟

0
7

اسلامی تہوار خواہ عیدین ہوں، شبِ برات یا ربیع الاوّل کا موقع غریب اور متوسط طبقے کے لیے محض مذہبی شعائر نہیں، بلکہ ایک روحانی پناہ گاہ اور خوشی کا سچا بہانہ ہوتے ہیں۔ جہاں سال بھر پیٹ کاٹ کر اولاد کی ننھی ننھی خواہشات کو دبا دیا جاتا ہے، وہاں عید کا چاند نکلتے ہی بازار کی طرف اٹھنے والے قدم اور نئی جوتی کی طلب صرف ایک مادّی خواہش نہیں بلکہ زندگی سے جڑے رہنے کی اک معصوم سی جدوجہد ہے۔

جس کے گھر میں سال کے تین سو ساٹھ دن سخت محنت، مہنگائی کا بوجھ اٹھانے اور اپنی سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھنے کی جنگ لڑی جاتی ہے، وہ عید کی سویّوں اور اپنے بچوں کے نئے ملبوسات کے لیے اپنی توانائی مزید نچوڑ دیتا ہے۔ غریب کی ان خوشیوں میں جتنا خلوص اور جوش ہوتا ہے، وہ ان کے دل کی پاکیزگی اور خدا پر ان کے بے لوث ایمان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

لیکن اس داستان کا تلخ ترین باب وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں اربابِ اختیار کی بے حسی اور ظالمانہ نظام کا پردہ فاش ہونا چاہیے تھا۔ غریب جب بھی اپنی معاشی زبوں حالی، ناانصافی اور غیر منصفانہ تقسیمِ دولت پر سوال اٹھانے لگتا ہے، تو حاکم وقت اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی اشرافیہ اپنی ناہلی اور استحصال چھپانے کے لیے ایک مخصوص بیانیہ تراشتی ہے۔ اس بیانیے کو باقاعدہ ایک پالیسی کے تحت عام کیا جاتا ہے اور بدقسمتی سے منبر و محراب کو بھی سچائی کا گلا گھونٹنے اور غریب کی آواز دبانے کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے۔

اربابِ اختیار کی اس سحر کاری کے تحت اکثر یہی بیانیہ پھیلا کر غریب کے ذہن میں بٹھایا جاتا ہے: “غربت اللہ کی محبت کا نشان ہے، وہ اپنے محبوب بندوں ہی کو آزماتا ہے۔” اور “صبر کرو، تم کو آخرت میں حساب بھی کم دینا ہوگا۔” یہ حکمتِ عملی بظاہر تو ایک زبردست اخلاقی نکتہ، خوب صورت تسلّی معلوم ہوتی ہے، لیکن جب تک ناانصافی اور عدم مساوات کو دور کرنے کی عملی کوششیں، عوام کو غربت کی دلدل سے نکالنے کے لیے ٹھوس اقدامات اور حقیقی معنوں میں غربت کو مٹانے کی سعی نہیں‌ کی جاتی تو کیا غریب اسے حکم رانوں اور اشرافیہ کی جانب سے اپنی ناانصافیوں اور مظالم پر پردہ ڈالنے کی ایک بظاہر سادہ مگر نہایت توانا کوشش کے طور پر نہیں دیکھے ہوگا؟ کیا معاشرے کے بیدار مغز اور باشعور شہریوں کو بھی اس کی نشان دہی کرتے ہوئے اسے عوام میں بیداری یا بغاوت کو خاموش کر دینے کی ایک بہترین بلکہ نہایت کارگر چال نہیں‌ کہنا چاہیے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر ہر سطح‌ پر استحصال، پالیسی سازوں کی ناکامی اور حکمرانوں کی بے حسی کو “خدا کی رضا” اور “امتحان” کا لیبل لگا کر غریب کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند نہ کرے بلکہ اپنی بھوک اور اپنے بچوں کی حسرتوں پر صبر و شکر کے گھونٹ پی کر زندگی کے دن پورے کرتا رہے۔

ہمارے علماء اور منبر کا کام تو آوازِ حق بلند کرنا تھا، مگر شاید وہ بھی اکثر غیر محسوس طریقے سے اربابِ اختیار کے اس بیانیے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ قرآن و سنت سے ہمیں توکل اور قناعت کی تعلیم ضرور ملتی ہے، لیکن ظالم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینے اور ناانصافی پر خاموش رہنے کو برا بھی کہا ہے۔ ہمارا دین غربت اور افلاس کی مذمت بھی کرتا ہے۔ غریب جب اپنے کمسن بچے کو عید کے موقع پر دوسروں کے نئے کپڑے دیکھ کر حسرت سے تکتا دیکھتا ہے، تو اس وقت “غربت ایک امتحان ہے” کا یہ درس اس کے دل کو تسلّی نہیں‌ دیتا بلکہ ایک گہرا سوال چھوڑ جاتا ہے۔ کیا خدا کا انصاف یہی ہے کہ غریب سال بھر مہنگائی کی چکی میں پس کر آزمائش پر پورا اترے، اور ملک کے اربابِ اختیار اور مخصوص طبقہ انہی تہواروں پر اپنی دولت کی نمائش کریں اور ان کو اسراف کا ذریعہ بنائیں؟

یادِ الٰہی کا اصل مفہوم دل کی صفائی، عدل اور خلقِ خدا کی خدمت ہے، نہ کہ غربت کو مخصوص معنی دے کر مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کو خاموش کر دینا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ جس دینی جوش و جذبے کے ساتھ اپنے اسلامی تہوار مناتا ہے، وہی بارگاہِ الٰہی مقبول ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار اور امراء کو عدم مساوات اور ناانصافی کی جانب متوجہ کیا جائے اور معاشرے میں “عدل” اور “مساوات” کا درس عام کیا جائے، تاکہ ریاست بھی اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے مذہب کو ڈھال نہ بنائے اور خوشیاں صرف حکمراں اور صاحبِ ثروت طبقات ہی کی جاگیر بن کر نہ رہ جائیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں