بشکیک (31 اگست 2026) : وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں شخصیات نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے ازبکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے قیادت کی سطح پر کیے گئے فیصلوں خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے 2029ء تک دوطرفہ تجارت کا حجم 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ بھی کیا۔
اس کے علاوہ فضائی رابطوں میں اضافے بالخصوص تاشقند تا کراچی براہ راست پروازوں کے حوالے سے پیش رفت کی بھی حمایت کی۔
وزیراعظم نے علاقائی رابطوں کو مشترکہ اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت اجاگر کی جو وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم منسلک کرنے اور ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔



