ڈاکو ٹائر پنکچر کرکے فرار ہوگیا، خاتون آن لائن کیب ڈرائیور کی دلخراش روداد

0
2

لاہور : 3 بچوں کی کفالت کے لیے خاتون نے آن لائن کیب چلانا شروع کردی، انہوں نے مشکل حالات کا سامنا کیسے کیا؟ دلخراش کہانی انہوں نے اپنی زبانی سنادی۔

لاہور کی باہمت خاتون امبر احسان معاشی مشکلات، گھریلو ذمہ داریوں اور دورانِ سفر ہراسانی جیسے مسائل کے باوجود خاتون نے ہمت نہ ہارتے ہوئے آن لائن کیب ڈرائیونگ کو ذریعہ معاش بنالیا۔

امبر احسان گزشتہ کئی برس سے اپنی گاڑی چلا کر نہ صرف اپنے بچوں کی کفالت کررہی ہیں بلکہ مشکل حالات میں محنت اور خود انحصاری کی مثال بھی قائم کرچکی ہیں۔

اے آر وائی نیوز لاہور کی نمائندہ جویریہ اجمل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امبر احسان نے بتایا کہ انہوں نے 2015 میں آن لائن کیب سروس سے بطور اونر ڈرائیور وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

ان کے مطابق وہ اس وقت شدید مالی مشکلات سے گزر رہی تھیں اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی ان ہی پر تھی، اس لیے انہیں ایسا کام درکار تھا جس میں ابتدائی سرمایہ کم سے کم ہو۔

امبر احسان کے مطابق ان کے پاس اپنی گاڑی موجود تھی اور وہ ڈرائیونگ بھی جانتی تھیں، چنانچہ انہوں نے اسی مہارت کو ذریعہ آمدن بنانے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو عموماً سلائی، کڑھائی یا میک اپ جیسے کام اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن انہوں نے اپنی موجودہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ کے شعبے میں قدم رکھا۔

انہوں نے بتایا کہ آن لائن کیب سروس شروع کرنے کے ابتدائی دنوں میں خواتین ڈرائیورز کی تعداد بہت کم تھی، جس کے باعث انہیں لوگوں کے مختلف رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بقول کچھ لوگ بہت تعاون کرتے ہیں، تاہم بعض مسافر خواتین ڈرائیورز کے ساتھ منفی رویہ بھی اختیار کرتے ہیں۔

خواتین ڈرائیورز کے لیے سیکیورٹی کا مسئلہ

امبر احسان نے دورانِ ڈرائیونگ پیش آنے والے بعض ناخوشگوار واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ چند نوجوان مسافروں نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی، ان کی شرٹ کاٹ دی اور واقعے کی ویڈیوز بھی بنائیں۔ اس واقعے کے بعد وہ تقریباً ایک ماہ تک کام پر نہیں جاسکیں۔

انہوں نے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مسافر نے ویران علاقے میں گاڑی رکوا کر اسلحہ نکال لیا اور ان سے نقدی و موبائل فون سمیت دیگر سامان چھین لیا۔ مسافر نے ان کی ایپ کے ذریعے رقم بھی منتقل کروائی اور بعد میں گاڑی کے دونوں ٹائر پنکچر کرکے وہاں سے فرار ہوگیا۔

امبر احسان کا کہنا تھا کہ خواتین مسافروں کے لیے آن لائن کیب سروسز میں مختلف حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، تاہم خواتین ڈرائیورز کی سکیورٹی کے لیے اب بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق کسی مسافر کے نام سے یہ اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں کہ گاڑی میں خاتون ہی سوار ہوگی، کیونکہ بعض مرد خواتین کے نام سے اکاؤنٹس بنا کر رائیڈ بک کراتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام مرد مسافر ایک جیسے نہیں ہوتے اور انہیں دورانِ کام اچھے اور بااخلاق مسافروں کا تجربہ بھی ہوا ہے۔

 کم ہوتی رائیڈز اور بڑھتا ہوا مالی دباؤ

امبر احسان نے بتایا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آن لائن کیب کا کام بھی متاثر ہوا ہے، ان کے مطابق پہلے وہ ایک دن میں تقریباً 10 سے 15 رائیڈز مکمل کرلیتی تھیں، لیکن اب یہ تعداد کم ہوکر تقریباً 8 یا 9 رائیڈز تک رہ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کم رائیڈز کے باوجود انہیں بعض اوقات رات 12، ایک یا اس سے بھی زیادہ بجے تک کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ بچوں کی فیس، بجلی کے بل اور گھر کے دیگر اخراجات پورے کرنا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات مالی دباؤ کے باعث انہیں رات گئے تک گاڑی چلانا پڑتی ہے۔

بچوں کے لیے اپنا گھر چاہیے

سنگل مدر امبر احسان نے بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں، جن میں بڑا بیٹا 23 سال کا، ایک بیٹا 9 سال کا جبکہ بیٹی بھی جوان ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل محنت کررہی ہیں، تاہم زندگی میں انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ گارمنٹس کے شعبے سے وابستہ تھیں، تاہم طبی پیچیدگی کے باعث انہیں کچھ عرصہ بستر پر رہنا پڑا۔ مشکل وقت میں ان کی والدہ نے انہیں اپنے ساتھ رکھا اور بچوں کی دیکھ بھال میں بھی مدد کی۔

اپنے مستقبل کے حوالے سے امبر احسان نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش اپنے بچوں کے لیے ایک گھر اور مستقل چھت کا حصول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات نے انہیں تھکا ضرور دیا ہے، لیکن بچوں کی خاطر وہ خود کو مضبوط رکھتی ہیں۔

خواتین کے نام پیغام

امبر احسان نے دیگر خواتین کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ مشکل حالات میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور کسی بھی انتہائی قدم سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں، تاہم محنت اور حوصلے کے ساتھ ان کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں