میر رضا علی آخری وقت کن راستوں سے گزرے؟

0
4

کراچی : میر رضا علی کیس پولیس کیلیے معمہ بن گیا، گتھی اب تک نہ سلجھ سکی، آخری سفر کے راستوں نے بھی کئی سوالات اٹھا دیے۔

میر رضا آخری بار کہاں دیکھے گئے اور پھر نرسری تک کیسے پہنچے؟ موبائل پھینکنے سے آخری ویڈیو تک، میر رضا کے آخری سفر کی اہم کڑیاں سامنے آگئیں۔ مذکورہ کیس پولیس کیلیے تاحال ایک ایسی گتھی بنا ہوا ہے جس کے کئی پہلو تحقیق کے باوجود واضح نہیں ہوسکے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز نے میر رضا کی موت کے حالات اور ان کے آخری سفر سے متعلق ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں ان راستوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے جن پر میر رضا نے سفر کیا اور وہی سے لاش برآمد بھی ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا علی کے آخری سفر کے راستوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گلستانِ جوہر کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے اس مقام کے قریب پہنچے جہاں بعد میں ان کی لاش ایک نرسری سے برآمد ہوئی۔

راستے میں موجود بعض دکانوں اور عمارتوں پر نصب کیمروں میں ان کی نقل و حرکت ریکارڈ ہوئی، جبکہ ایک مقام پر میر رضا کو اپنی جیب سے موبائل فون نکال کر پھینکتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

تحقیقات میں ایک گیسٹ ہاؤس بھی ابتدائی طور پر مشکوک قرار دیا گیا تھا، میر رضا کے والدین کو شبہ تھا کہ ممکنہ طور پر انہیں گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا یا وہ وہاں گئے تھے، تاہم پولیس کی جانب سے وہاں کی ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد بتایا گیا کہ میر رضا گیسٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوئے تھے۔

البتہ جب ان کے والدین میر رضا کی تصویر لے کر وہاں پہنچے تو گیسٹ ہاؤس میں کام کرنے والے عملے کے خوفزدہ ہوکر فرار ہونے کا بھی ذکر سامنے آیا جس سے معاملے کو مشکوک قرار دیا گیا۔

میر رضا کے آخری سفر میں گیسٹ ہاؤس کے سامنے سے گزرنے والی سڑک بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ یہی راستہ آگے جاکر یونیورسٹی روڈ سے منسلک ہوتا ہے۔

ایک مقام پر میر رضا نے اپنا موبائل فون پھینکا، جس کے بعد ان کی نقل و حرکت کا جائزہ لینے کے لیے آس پاس موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اہم سمجھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ناصر ٹاورز کے اطراف میں موجود دکانوں اور دیگر مقامات پر نصب کیمروں سے میر رضا کی رات کے وقت پیدل چلنے کی فوٹیج بھی حاصل ہوئی۔

ناصر ٹاورز کے اختتام پر موجود ایک چھوٹی عمارت کے کیمروں میں میر رضا کو آخری مرتبہ زندہ حالت میں دیکھا گیا۔ یہ مقام اس جگہ سے زیادہ دور نہیں جہاں بعد میں ان کی لاش ملی۔

مذکورہ کیس میں ایک امکان یہ بھی زیرِ بحث رہا کہ میر رضا کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور بعد میں قتل کرکے لاش نرسری کے قریب پھینکی گئی۔ تاہم یہ تاحال ایک مفروضہ ہے اور اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس مفروضے کے تحت یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر انہیں اغوا کیا گیا تو ملزمان نے کون سا راستہ اختیار کیا اور لاش کو کس راستے سے نرسری تک پہنچایا۔

نرسری کے قریب موجود کچا راستہ دو اہم سڑکوں کو آپس میں ملاتا ہے، ایک راستہ اوپر واقع آبادی اور مسجد کی جانب جاتا ہے جبکہ دوسرا گلستانِ جوہر کے بلاک ون کی طرف جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ دونوں راستے یونیورسٹی روڈ اور پہاڑی پر قائم آبادی سے بھی منسلک ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ اگر اغوا کا امکان درست مانا جائے تو ممکنہ طور پر نقل و حرکت کے لیے ان راستوں کو استعمال کیا گیا یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق نرسری کے اطراف کا علاقہ نسبتاً سنسان ہے اور یہاں عام لوگوں کی آمدورفت محدود رہتی ہے، پہاڑی پر قائم آبادی کی جانب جانے والے بعض راستے بھی کم استعمال ہوتے ہیں۔

میر رضا کیس میں اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ان کے آخری سفر کے مختلف مقامات کی نشاندہی تو کی گئی ہے، لیکن نرسری تک پہنچنے والے دو راستوں اور اس سے منسلک علاقوں کی تحقیقات پر سوالات برقرار ہیں۔ اس کے علاوہ کمیشن کی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے سوالات نے بھی معاملے کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بااثر شخصیت کو تحفظ نہیں دے رہی، جبکہ قتل یا خودکشی کے محرکات کے حوالے سے بھی اب تک کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ مختلف پوسٹ مارٹم رپورٹس میں مبینہ تضاد اور تفتیش کے بعض پہلوؤں پر اٹھنے والے سوالات کے باعث میر رضا علی کی موت کا معمہ تاحال حل طلب ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں