الیکٹرک کار مالکان خبردار : نیا مسئلہ سامنے آگیا

0
5

لندن : الیکٹرک کاروں میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا نیا مسئلہ سامنے آگیا، عام پیٹرول گاڑی کی نسبت الیکٹرک کار کے ٹائروں میں خرابی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیاں ماحول دوست اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہورہی ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق میں ان گاڑیوں کے پہیوں اور ٹائروں سے متعلق ایسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جو مالکان کے لیے اضافی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات کا سبب بن سکتے ہیں۔

برطانوی وہیکل رینٹل اینڈ لیزنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی تحقیق میں برطانیہ میں ہونے والے 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ایم او ٹی ٹیسٹس کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔

Electric vehicle

تحقیق کے مطابق الیکٹرک کار میں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا امکان تقریباً 1.8 گنا زیادہ پایا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بھاری بیٹریاں ہیں۔ بعض الیکٹرک گاڑیوں کے بیٹری پیک کا وزن تقریباً 299 سے 499 کلوگرام تک ہوسکتا ہے، جو گاڑی کے مجموعی وزن کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔

اضافی وزن گاڑی کے پہیوں اور ٹائروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے ٹائروں پر اضافی دباؤ کی دوسری اہم وجہ الیکٹرک موٹرز کا فوری ٹارک ہے۔

tyre problems

روایتی پیٹرول انجن کے مقابلے میں الیکٹرک موٹر ایکسیلیریشن کے آغاز ہی میں تقریباً فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹائروں پر زیادہ قوت پڑتی ہے اور وقت کے ساتھ ان کے گھسنے یا نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

برطانوی تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے بعض مالکان کو ٹائروں کی تبدیلی اور دیگر مرمت کی صورت میں اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر مہنگے یا پریمیم ٹائروں کی تبدیلی پر سینکڑوں پاؤنڈز خرچ ہوسکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں