کراچی : سڑکوں پر موت کا رقص، پولیس موٹرسائیکل ریس پر کیوں قابو نہ پاسکی؟

0
3

کراچی : شہر قائد کی سڑکوں پر موت کا رقص جاری ہے، لیکن ارباب اختیار اس خطرناک موٹر سائیکل ریس پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہیں۔

سپرہائی وے سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل ریس کے دوران ون ویلنگ، خطرناک کرتب، دکھانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، نوجوان اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے ساتھ سڑکوں پر سفر کرنے والے لوگوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔

سپر ہائی وے سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل سواروں کے گروپس تیز رفتاری اور خطرناک اسٹنٹس کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر انتظامیہ کی خاموشی اور مؤثر کارروائی نہ ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں نمائندہ خصوصی نے بتایا کہ یہ سرگرمیاں صرف سپر ہائی وے تک محدود نہیں بلکہ ہفتہ اتوار کی درمیانی شب ڈیفنس، کلفٹن، شاہراہ فیصل اور دیگر اہم سڑکوں پر بھی موٹر سائیکل سواروں کے گروپس نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر نوجوان موٹر سائیکل پر کھڑے ہوکر، لیٹ کر یا ایک پہیے پر گاڑی چلاتے ہیں، جبکہ بعض خطرناک ریسنگ میں بھی حصہ لیتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل ریسنگ بعض نوجوانوں کے لیے کم خرچ تفریح کا ذریعہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ڈیفنس اور کلفٹن کے کم آباد علاقوں میں بھی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ریسنگ ہوتی تھی، تاہم آبادی بڑھنے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے رکاوٹیں قائم کرکے ان سرگرمیوں کو محدود کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں خطرناک ریسنگ کے لیے سپر ہائی وے کا وہ حصہ بھی استعمال کیا جاتا ہے جو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی حدود میں آتا ہے۔ ان کے مطابق سہراب گوٹھ سے جمالی پل اور حیدرآباد ٹول پلازہ تک موٹر سائیکل سوار ریس لگاتے اور واپس آتے ہیں، جبکہ ڈیفنس کے گذری کے علاقے میں بھی بڑی تعداد میں رائیڈرز ریسنگ کرتے ہیں۔

بعض اوقات 50 سے 60 موٹر سائیکل سوار ایک ساتھ ریس میں شامل ہوتے ہیں، خطرناک انداز میں لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا، ون ویلنگ اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کے لیے اسٹنٹس کرنا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں