کسی سہولت یا رعایت سے قبل لانگ مارچ ختم کرنا ہوگا، احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں : حکومت کا جواب

0
3

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں لیا گیا وقفہ طویل ہو گیاہے جبکہ تحریک انصاف نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے فیس سیونگ مانگ لی ہے اور بانی سے ملاقات کا مطالبہ دہرا دیاہے ۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت بچانے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں اور موقف اپنایا گیا کہ ایسا کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے نفرتیں بڑھیں جس پر حکومت کی جانب سے جواب دیا گیا کہ کسی سہولت یا رعایت کیلئے پہلے لانگ مارچ ختم کرنا پڑے گا،موجودہ حالات میں کسی کو احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

حکومت کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے کے اعلان پر پی ٹی آئی کے بعض بنیادی مطالبات تسلیم کرنے کا عندیہ دیا گیاہے ۔ 

اس سے قبل

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ، سپیکر نے کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذکرات کو آگے بڑھائیں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک ہیں۔

اپوزیشن کی کی نمائندگی بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ  کر رہے ہیں ۔

 حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ روز مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جس میں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اور آج کی بیٹھک کا اعلان کیا گیا ۔

مذاکرات میں شرکت کیلئے پہنچنے پر جنید اکبر نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ   تحریک انصاف میں تمام لوگ مثبت ڈائیلاگ کے حق میں ہیں،یہ تاثر دیا جانا ٹھیک نہیں ہم میں سے کوئی مذاکرات کیخلاف ہے، مثبت مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکلنا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کیلئے پہنچنے پر گفتگو میں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ انہی وزراء کے بیانات نے ملک کا بہت نقصان دیا ہے، آپ 32 سال سے سیاست کر رہے ہیں خدارا ایسے بیانات نہ دیں ، خواجہ آصف اپنے بیانات پر نظر ثانی کریں، مذاکرات ناکام نہیں ہوں گے انشاء اللہ۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات تاخیرکاشکارنہیں ہیں،وزرا اور دیگر کچھ لوگوں کے بیانات سےمایوسی ہوئی،مذاکرات قوم،ملک اور جمہوریت کیلئےبہت ضروری ہیں، مذاکرات صوبےکی خودمختاری،مضبوط اتھارٹی کیلئےضروری ہیں، اس دوران غیرذمہ دارانہ بیانات سے مایوسی ہوئی، آج نتیجہ خیز مذاکرات ہوں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں