گلابی امرود ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک سپر فوڈ ہے، جس کے بے شمار فوائد ہیں، جو ہاضمے کی بہتری سے لے کر قوتِ مدافعت میں اضافے تک صحت کے بے شمار فوائد فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ سفید امرود عام دستیاب ہوتے ہیں، لیکن گلابی امرود کم ہی ملتے ہیں اور انھیں اکثر ’سپر فوڈ‘ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا گلابی رنگ بیٹا کیروٹین اور اینتھوسیاننز کی وافر مقدار کی بدولت ہوتا ہے۔ صرف 100 گرام گلابی امرود روزانہ درکار فائبر کا 20 فی صد حصہ فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ وٹامن اے، بی اور ای سے بھرپور ہوتے ہیں۔
امریکن نیوٹریشن انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق گلابی امرود میں فائبر زیادہ اور گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، اس لیے یہ خون میں شوگر کی سطح کو منظم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ فائبر کی وافر مقدار شوگر کے جذب کو سست کرنے میں مدد کرتی ہے، جس سے خون میں شکر تیزی سے بڑھنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
گلابی امرود میں کیلوریز کم، پانی اور فائبر زیادہ ہوتا ہے، اس لیے یہ پیٹ بھرنے کا احساس بڑھاتا ہے اور وزن کو متوازن رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اور صحت مند وزن برقرار رکھنا ذیابیطس کے انتظام میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
’پاکستانی خواتین میں امراضِ قلب سے اموات کی شرح خطے میں سب سے زیادہ‘
امرود میں موجود پوٹاشیم اور فائبر بلڈ پریشر کو کم رکھنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ گلابی امرود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور خلیات کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
اس میں موجود وٹامن اے آنکھوں کی صحت کے لیے اہم ہے، 100 گرام گلابی امرود روزانہ درکار فائبر کا تقریباً 20 فیصد فراہم کر سکتا ہے۔ امرود میں بیٹا کیروٹین اور اینتھوسیاننز بھی پائے جاتے ہیں، جو اس کے گلابی رنگ اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا سبب ہیں۔
اس میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا اور قبض سے بچانے میں مدد کرتا ہے، امرود میں فولک ایسڈ، کیلشیم، پروٹین اور دیگر معدنیات بھی پائے جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر گلابی امرود ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک فائبر سے بھرپور اور کم کیلوریز والا پھل ہو سکتا ہے، لیکن یاد رہے کہ اسے ذیابیطس کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔



