اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم شہباز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، گورنر راج نافذ کیا گیا تو بھرپور مزاحمت کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ سیاسی بحران کا حل مذکرات اور آئین کی بالادستی میں ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری پر وزیراعظم یا اسپیکر دفتر میں ملاقات نہیں ہوگی، اہم تقرری پر نواز شریف کے مری والے گھر میں بات کرنے کو تیار ہیں، تقرری آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔
محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ حکومت مسئلے کا حل چاہتی ہے تو ہماری عمران خان سے ملاقات کروانا ہوگی ورنہ مذاکرات نہیں ہوسکتے، ملاقات کے بعد مسائل کے حل تک مذاکرات ختم نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جو کہیں گے ہم وہی بات آگے پہنچائیں گے۔
گزشتہ روز محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ حکومت کے رابطے پر پہلی شرط بانی سے ملاقات ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے، بانی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بے معنی ہوگی۔
محمود اچکزئی نے کہا تھا کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کا سوچا جاسکتا ہے۔



